
مظفرآباد: آل آزاد کشمیر مرکزی انجمن تاجران نے
اپنے مطالبات کے حق میں
مرکز کے ساتھ انتیس اور تیس اکتوبر کو
2 روزہ شٹرڈائون کا اعلان کر دیا۔
14 نکاتی مطالبات تاجروں کیلئے آسان طریقہ کار کو اپناتے ہوئے فیکسڈ سکیم کا اجراء کیا جائے اوراردو میں 1 صفحہ کا ریٹرن فارم بنایا جائے،آزاد کشمیر کے وہ علاقے جو انڈین فائرنگ کی زد میں آتے ہیں اُن پر ٹیکس ختم کیے جائیں۔
جیولرز پر 1998 کے طریقہ کار کے مطابق پرانا قانونلاگو کیا جائے انکم ٹیکس اور ایف بی آر کی ظالمانہ ٹیکس پالیسی 2019 کو ختم کیا جائے۔پاکستان سمیت گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں آل پاکستان انجمن تاجران کی اپیل پر 2 دن مکمل شٹر ڈائون کرینگے۔
ان خیالات کا اظہار آل آزاد کشمیر کے مرکزی انجمن تاجران کے صدر سردار افتخار فیروز،جنرل سیکرٹری شوکت نواز میر نے تاجروں کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست سمیت پاکستان بھر میں 2 روز 29 اور 30 اکتوبر کو مکمل شٹرڈائون ہڑتال کرینگے۔آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ،جنرل سیکرٹری نعیم میر،چیئرمین خواجہ محمد شفیق کی اپیل پر تمام تاجروں سے مشاورت کے بعد متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر بھر میں مکمل طور پر شٹرڈائون ہو گا۔
یہ شٹرڈائون انکم ٹیکس اور ایف بی آر کی ظالمانہ ٹیکس پالیسی 2019 کے خلاف ہے۔آزاد کشمیر و پاکستان کی تاجر قیادت نے حکومت پاکستان کو 14 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ دے رکھا ہے چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے تاجروں کو سیلز ٹیکٹس رجسٹریشن سے مستثنیٰ کیا جائے۔
تمام جیولرز کو سیلز ٹیکس میں لازمی رجسٹریشن کے قانون کو ختم کرتے ہوئے 1998 کے طریقہ کار کو بحال کیا جائے،تاجروں کو ودہولڈنگ ایجنٹ نہ بنایا جائے اوراستعمال شدہ موبائل کی امپورٹ کی اجازت دی جائے اور خریدو فروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرتے ہوئے شادی حال پر 20 ہزار فی پروگرام ختم کیا جائے۔
جب تک ہمارے مطالبات چارٹر آف ڈیمانڈ حل نہیں ہوتے ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔
پہلے مرحلہ میں 2 روزہ شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے،مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں تاجروں کی مشاورت سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔



