
اسلام کی سر بلندی کے لئے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہُ اور ان کے رفقا کی بے مثال قربانی کی یاد میں ملک بھر میں جلوس برآمد کیے گئے ہیں۔عاشورہ کے جلوس اپنے روایتی راستوں پر رواں دواں ، جلوسوں کی فضائی نگرانی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سیدمراد علی شاہ نے کراچی، نواب شاہ، حیدرآباد میں جلوسوں کا دورہ کیا جبکہ ڈی جی رینجرز محمد سعید نے کراچی میں مرکزی جلوس کا دورہ کیااور سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
یوم عاشور پر لاہور میں نثارحویلی سے برآمد ہونے والا جلوس روایتی راستوں پر رواں دواں ہے جبکہ کراچی میں نشتر پارک سے مجلس کے بعد مرکزی جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھاردار میں اختتام پذیر ہوگا۔
کوئٹہ میں عاشورہ محرم کا مرکزی جلوس علمدارروڈ پررحمت اللہ چوک سے نکالا گیاجبکہ مظفرآباد، گلگت، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان،ایبٹ آباد، ملتان، مظفرگڑھ، خانیوال،جھنگ، اوکاڑہ، لودھراں، میانوالی، جہانیاں اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی عزاداروں کے جلوس روایتی راستوں پر رواں دواں ہیں۔
پشاور، راولپنڈی، فیصل آباد اور حیدرآباد میں بھی یوم عاشور کے جلوس مقررہ راستوں پر گامزن ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی نواب شاہ اور حیدرآباد میں محرم کے جلوسوں کا دور کیا۔ اس موقع پران کا کہنا تھا کہ اس وقت مکمل فوکس محرم پر ہے، سیکورٹی کے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں اور تعاون کا سہرا عوام کے سرجاتا ہے۔
سید مراعلی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں وہاں خطرہ موجود ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں ڈی جی رینجرزسندھ میجرجنرل محمد سعید نے کراچی میں مرکزی جلوس کا دورہ کیا اور سیکورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جلوس کےلیے 6 ہزار رینجرز اہلکار تعینات ہیں جبکہ مختلف مقامات پرتقریباً 10 ہزارپولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔
دوسری جانب کراچی، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، مظفرآباد، جیکب آباد، سکھر، شکارپور، کشمور، خیرپور سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے۔

اس کے علاوہ کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں آج بھی موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی اور جڑوا ں شہروں میں میٹرو سروس آج بھی معطل ہے۔
سندھ پولیس اور رینجرز کی جانب سے مرکزی مجلس اور جلوس کے لیے سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جلوس کے راستوں پر عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات ہیں۔
مرکزی جلوسوں کی مانیٹرنگ کے لیے تین کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کئے گئے ہیں، جہاں سی سی ٹی وی کیمروں سے 473مقامات کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے لاہور اور راولپنڈی سمیت 10اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے ان اضلاع میں سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے جبکہ وزارت داخلہ میں قائم خصوصی مانیٹرنگ سیل پورے ملک میں سیکورٹی صورتحال کو مانیٹر کررہا ہے۔
جلوسوں کی فضائی نگرانی اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔



