لاڑکانہ: جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے
انصار السلام پر پابندی کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتےہوئے کہا ہے کہ وہ اس پر عملدرآمد نہیں کریں گے
آزادی مارچ انشا اللہ مقررہ وقت پر شروع ہو گا،
31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخلہ ہونگے۔۔لاڑکانہ میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں،
ہمارے رہنماں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں،ایسے میں ایک انچ بھی پیچھے ہٹنا نہیں چاہیں گے۔جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے ساتھ اس کے برعکس وعدہ کیا گیا تھا،
اسلام آباد میں دکانداروں کو کہا جا رہا ہے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار بھی نہیں کرنا۔انکا کہنا تھا کہ کل جے یو آئی کی ذیلی تنظیم پر پابندی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا ہے، انصار السلام جمیعت کا اہم شعبہ ہے،
انصار السلام پر پابندی کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں عملدرآمد نہیں کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میڈیا پر انصار السلام کی فوٹیج چلائی جا رہی ہیں وہ پشاور کی ہے ۔
اس کی اجازت ڈپٹی کمشنر نے دی۔ رضاکاروں کو روکنے والی اتنی بزدل حکومت نہیں دیکھی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپنی آف شور کمپنیز ہیں، وہ جھوٹ بول رہے ہیں، وزیر اعظم اپنی بہنوں کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ اتنی ننگی حکومت کبھی نہیں دیکھی، جب تک شائستہ حکومتیں تھیں ہم شائستہ رہے۔ اب تھوپی گئی حکومت کی پالیسز سے ہم لڑیں گے



