سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائیز عیسی و دیگر فریقین کی درخواستوں کی سماعت

Image result for supreme court of pakistan building pic"

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں  صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائیز عیسی و دیگر فریقین کی درخواستوں کی سماعت کے دوران دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال  نے ریمارکس دیئے ہیں کہ  فاضل جج کے خلاف ریفرنس وحید ڈوگر نہیں بلکہ صدر نے دائر کیا ہے اورسپریم جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس کو اٹھا کر پھینک نہیں سکتی۔

کونسل صدارتی ریفرنس پر اضافی مواد مانگ سکتی ہے ابھی سوال جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا ہے کونسل نے شکایات کا جائیزہ لے کر اٹارنی جنرل کو اور پھر جسٹس قاضی فائز عیسی کو نوٹس کیاصدارتی ریفرنس آ نے پر کونسل کاروائی کی پابند ہوتی ہے

سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس فائز عیسی اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی جسٹس فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوے کہاکہ جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا نوٹس دیا گیا۔

جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے 2015 سے 2018 تک کے گوشوارے جمع نہیں کراے۔جس ایڈریس پرنوٹس بھیجا گیا وہ جسٹس فائز عیسی 1997 میں فروخت کر چکے جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے 2014 میں گوشوارے جمع کرائے تھے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاحکومت کے پاس نیا ایڈریس ہونا چاہئے تھا۔ وکیل منیر اے ملک نے کہامیں جسٹس فائز عیسی کا وکیل ہوں انکی اہلیہ کی طرف سے بات نہیں کروں گا۔غلط ایڈریس پرنوٹس بھجوانا بد نیتی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہااول سوال اہلیہ کے نام اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہونے یا نہ ہونے کا ہے۔

وکیل منیر اے ملک نے کہاجسٹس فائز عیسی ریفرنس دائر ہونے کے بعد برطانیہ نہیں گئے۔اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو حکومت نے جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ کی ٹریول ہسٹری دی تھی۔دستاویزات کے مطابق جسٹس فائز عیسی 2018 کے بعد برطانیہ نہیں گئیٹریول ہسٹری 2009 سے 29 دسمبر 2018 تک جمع کرائی گئی۔ جسٹس فائز عیسی کی بیٹی اگست 2018 کے بعد برطانیہ نہیں گئی۔

جسٹس فائز عیسی کا بیٹا 11 جنوری 2019 کو برطانیہ گیا۔ جسٹس منیب اختر نے کہامبینہ جاسوسی کی دنوں میں جسٹس فائز عیسی کے اہلیخانہ بیرون ملک نہیں گے جس پر وکیل منیر اے ملک نے کہا جسٹس فائز عیسی اور اہلخانہ کی جاسوسی کیسے ہوئی یہ ہمیں بھی نہیں پتا۔

نہ ہی کچھ علم نہیں کہ ای میل ہیک کیا گیا یا کسی نے پیچھا کیاجسٹس فائز عیسی اپنی اور اہلخانہ کی جاسوسی پر بیان حلفی دینے کو تیار ہیں۔جس پر اٹارنی جنرل نے اعتراض کرتے ہوے کہا کہ 184/3 کی درخواست میں شواہد ریکارڈ نہیں ہو سکتے۔

شواہد دینے کے لیے جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے۔جس کے بعد اپنے دلائل جاری رکھتے ہوے وکیل منیر اے ملک نے کہا شکایت کنندہ وحید ڈوگر کبھی لندن گے ہی نہیں جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاریفرنس وحید ڈوگر نے نہیں صدر مملکت نے دائر کیا ہے۔

سرکاری اداروں کے ریکارڈ تک صدر کو رسائی ہوتی ہے۔ وکیل منیر اے ملک نے کہا صدر مملکت نے اگر ریکارڈ نکالنے کا حکم دیا تو سامنے لایا جاے۔جسٹس منیب اختر نے کہابظاہر جاسوسی ہونا آپکا تجزیہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ان دستاویزات کا مطلب ہے کہ مزید مواد اکٹھا کیا جا رہا ہے۔وکیل منیر اے ملک نے کہاریفرنس دائر کرنے کے بعد مواد اکٹھا کرنا جوڈیشل کونسل کا کام ہیریفرنس دائر ہونے کے بعد صدر اضافی دستاویزات جمع نہیں کرا سکتا۔سیاسی انتقام کے لیے عدلیہ کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکیا صدر مملکت وزیر اعظم کو استعمال کر سکتا ہے۔منیر اے ملک نے کہاصدر مملکت کے آفس کا مرتبہ زیادہ اہم ہے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاآپ کہتے ہیں ریفرنس دائر ہونے کے بعد مواد اکٹھا کرنا کونسل کا کام ہے۔

کونسل صدارتی ریفرنس کو اٹھا کر پھینک نہیں سکتی۔کونسل صدارتی ریفرنس پر اضافی مواد مانگ سکتی ہے ابھی سوال جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے کا ہے کونسل نے شکایات کا جائیزہ لے کر اٹارنی جنرل کو اور پھر جسٹس قاضی فائز عیسی کو نوٹس کیاصدارتی ریفرنس آ نے پر کونسل کاروائی کی پابند ہوتی ہے

وکیل منیر اے ملک نے کہاکونسل کی کاروائی پر بھی بعد میں بات کروں گا تاہم کچھ معیار اعلی درجہ پر جانچے جاتے ہے ریفرنس سے پہلے کچھ اقدامات قانون کے بر خلاف ہوئے عدالت نے ریفرنس بھیجنے کے تمام اقدامات کا جائیزہ لینا ہے

عدالت جائیزہ لے کہ کیا صدر کو ریفرنس بھیجنے کی ضرورت تھی بھی یا نہیں جسٹس منیب اختر نے کہادرخواست میں صدر کے خلاف کچھ الزامات لگائے گئے ہیں کیا آپ کا موقف ہے کہ کونسل کے پاس صدر پر لگائے جانے والے الزامات کے جائیزہ کا اختیار نہیں ہے ؟ ۔

افتخار چوہدری کیس میں صدر پر بد نیتی کے ٹھوس الزمات تھے وکیل منیر اے ملک نے کہاسپریم جوڈیشل کونسل کا کام صرف فیکٹ فائنڈنگ ہے۔مکونسل یہ جایزہ نہیں لے سکتی کہ ریفرنس دائر کرنے کا طریقہ درست تھا یا نہیں۔یہ کہنا درست نہیں کہ جوڈیشل کونسل کی کاروائی چیلنج نہیں ہو سکتی۔

ریفرنس کے لیے مواد قانون کے مطابق لیا گیا یا نہیں جوڈیشل کونسل طے نہیں کر سکتی۔سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار صرف ریفرنس کے مواد تک محدود ہے۔

ریفرنس بنانے کے لیے ایگزیکٹو اقدامات کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ آپ نے بہت دلچسپ نکات اٹھاے ہیں جسٹس مظہر عالم نے تحریری طور پر کہا تھا وہ سماعت کا حصہ نہیں بن سکتے۔

جسٹس مظہر عالم کو اہلخانہ کے ساتھ ٹائم گزارنے کا موقع ملا۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت سوموار 11:30 تک ملتوی کردی