رحیم یار خان کے قریب تیز گام ایکسپریس میں آتشزدگی سے ستر مسافر جاں بحق چالیس کے قریب زخمی ہوگئے

رحیم یار خان کے قریب ریلوے ٹرین تیز گام ایکسپریس کے حادثے میں کم از کم ستر افراد جاں بحق جبکہ چالیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔جاں بحق افراد میں سے زیادہ تر کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔عینی شاہدین میں سے بعض گیس سلنڈرپھٹنے اور بعض شارٹ سرکٹ کو آگ کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔کئی مسافروں نے جان بچانے کے لئے جلتی ٹرین سے چھلانگ لگادی لیکن وہ بچ نہ سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق اگ پہلے ایک بوگی میں لگی لیکن ٹرین رکے نہیں چلتی رہی جس کی وجہ سے آگ دیگر بوگیوں میں بھی پھیل گئی۔

بدقسمت ٹرین کو حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور کے چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے 64 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد میں سے  بشترکی بھی اب تک شناخت نہیں ہوسکی۔

سلنڈر پھٹنے کی آواز سن کر مسافر چلتی ہوئے ٹرین سے کود گئے—تصویر: ریڈیو پاکستان
سلنڈر پھٹنے کی آواز سن کر مسافر چلتی ہوئے ٹرین سے کود گئے

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق آگ کی شدت بہت زیادہ تھی جس نے تیزی سے دوسری بوگیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حادثے کے فوری بعد زخمیوں کو مقامی افراد کی مدد سے قریبی شیخ زید ہسپتال اور بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال اور ملتان کے اٹالین برن یونٹ منتقل کیا گیا جبکہ ضلع بھر کے دیگر ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی جس نے تیزی سے مزید 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ متاثرہ بوگیوں میں سوار مسافر رائیونڈ اجتماع میں شرکت کے لیے جارہے تھے اور آتشزدگی کی لپیٹ میں آنے والی 2 بوگیاں خصوصی طور پر بک کروائی گئی تھی۔

متاثرہ بوگیوں میں زیادہ تر مرد حضرات سوار تھے جن کے پاس کھانا بنانے کے لیے سلنڈر بھی موجود تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق سلنڈر پھٹنے سے ٹرین میں دھماکا ہوا جس کے آواز سن کر دیگر مسافر تخریب کاری کے خطرے کے پیشِ نظر چلتی ہوئی ٹرین سے کود گئے۔

حکام کے مطابق چلتی ٹرین سے ریلوے ٹریک کے قریب پتھروں پر کودنے کے باعث زیادہ مسافر زخمی ہوئے جن میں 3 سے 4 خواتین بھی شامل ہیں۔

حادثے کے بعد سب سے پہلے مقامی افراد نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیاں شروع کیں۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ 13 افراد ٹرین سے چھلانگ لگانے اور مختلف وجوہات کی بنا پر جبکہ مجموعی طور پر 64 افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ بوگی میں ایک چولہا اور 2 سلنڈر موجود تھے ایک کے پھٹنے سے باقی نے بھی تباہی مچادی۔

آگ سے متاثرہ بوگیوں میں 2 اکانومی کوچز جبکہ ایک بزنس کوچ شامل ہے—تصویر ڈان نیوز ٹی وی
آگ سے متاثرہ بوگیوں میں 2 اکانومی کوچز جبکہ ایک بزنس کوچ شامل ہے

وزیر ریلوے نے کہا کہ مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے باقی چھوٹے اسٹیشنز پر مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے کا کوئی نظام نہیں۔

انہوں نے کہا ریلوے میں یہ روایت موجود ہے کہ تبلیغی جماعت کے لیے امیر کے نام پر بوگی بک کرلی جاتی تھی جبکہ ہر مسافر کی تفصیلات نہیں لی جاتی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹرین کی اکانومی کلاس میں موجود سلنڈر پھٹنے سے بوگیوں میں آگ لگی، جس پر تبلیغی جماعت کے افراد ناشتہ بنارہے تھے اس کے ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2 گھنٹے میں ٹریک بحال کردیا جائے گا۔

حادثے کے سبب دیگر ٹرینوں کو ان کے قریبی اسٹیشنز پر ہی روک دیا گیا جبکہ اسی ٹریک پر آنے والی زکریا ایکسپریس کو لیاقت پور سے قبل خان پور اسٹیشن پر روکا گیا۔

دوسری جانب ریلوے حکام کے مطابق ٹرین میں سلنڈر لے جانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور تحقیقات کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کس کی غفلت کے باعث مسافر ٹرین میں سلنڈر لے کر سوار ہوئے۔

اس ضمن میں ڈویژنل کمرشل آفیسر جنید اسلم نے جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ متاثر ہونے والی 2 بوگیاں اکانومی جبکہ ایک بزنس کوچ تھی اور ایک بوگی امیر حسین جبکہ دوسری جماعت کے نام پر بک کروائی گئی تھی۔

آتشزدگی کے باعث 2 بوگیاں مکمل طور پر جل گئیں—تصویر: ٹوئٹر
آتشزدگی کے باعث 2 بوگیاں مکمل طور پر جل گئیں—تصویر: ٹوئٹر

انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے لیے بوگیاں کسی ایک شخص کے نام پر بک کروالی جاتی ہیں اور باقی تفصیلات ان کے امیر کے پاس ہوتی ہیں جس کے باعث تمام مسافروں کی شناخت فراہم نہیں کی جاسکتی البتہ انہوں نے یہ ضرور بتایا کہ ایک بوگی میں 78 جبکہ دوسری بوگی میں 77 افراد کے لیے بکنگ کروائی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ٹرین میں آٹھ سو پینسٹھ مسافر سوار تھے جن میں سے چھ سو دس کراچی اور اکانوے حیدر آباد سے سوار ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ بزنس کلاس بوگی میں 54 افراد کی بکنگ کروائی گئی تھی جس میں مختلف افراد سوار تھے۔

حادثے کے بارے میں جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین ریلویز سکندر سلطان کا کہنا تھا کہ ٹرین میں سلنڈر کا مٹی کا تیل لے جانے کی اجازت نہیں ہے اور اس کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے کہ ٹرین میں مسافر سلنڈر لے کر کیسے سوار ہوئے۔

رحیم یار خان میں تیز گام ایکسپریس میں خوفناک آتشزدگی پر پاک فوج کی امدادی ٹیمز بھی سول انتظامیہ کی معاونت کررہی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جائے حادثہ پر ریسکیو اور ریلیف فراہم کرنے کے لیے سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے پاک فوج کے دستے، ڈاکٹرز اور طبی عملے کو روانہ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شدید زخمیوں کومنتقل کرنے کے لیے ملتان سے آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بھی روانہ کیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے سانحہ تیزگام پر انتہائی دکھ کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری تمام ہمدردیاں غم میں ڈوبے خاندانوں کےساتھ ہیں اور میں زخمیوں کی جلد شفایابی کے لیےدعاگو ہوں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ حادثے کی فوری تحقیقات ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرنے کے احکامات صادر کیے جاچکے ہیں۔

اس سے قبل سانحہ تیز گام کے حوالے سے صدر مملکت عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے علیحدہ علیحدہ بیان جاری کرتے ہوئے تیزگام ایکسپریس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر سخت رنج و غم کا اظہار کیا۔