آزادی مارچ: جڑواں شہروں میں تعلیمی ادارے بند، میٹرو سروس بند، ڈرون کوریج پر پابندی ہوگی۔متبادل ٹریفک پلان بھی جاری کر دیا گیا

نصف سے زائد علاقے کنٹینرز اور خار دار تاروں سے سیل ہونے کے باعث شہری پریشانی کا شکار ہیں — فوٹو: محمد عاصم

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کی آمد سے قبل جڑواں شہروں کی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے وفاقی دارالحکومت کے نصف سے زائد علاقے کنٹینرز اور خار دار تاروں سے سیل کیے گیے ہیں، جس کے باعث شہر کے مکین پریشانی کا شکار ہیں۔

آزادی مارچ کا آج (31 اکتوبر) کی شام شہر میں داخل ہونے کا امکان ہے لیکن انتظامیہ اور پولیس نے شرکا کی آمد سے قبل ہی شہر کو سیل کرنا شروع کردیا۔

اس سلسلے میں ریڈزون، فیض آباد اور زیر پوائنٹ انٹرچینجز سمیت مختلف سڑکوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ’ ریڈ زون جانے والے راستوں کو جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کو کسی حساس مقام پر جانے کی کوشش روکنے کے لیے احتیاطاً بلاک کیا گیا ہے’۔

تاہم ابھی تک راستے جزوی طور پر بند کیے گئے ہیں اور ٹریفک کے لیے اتنی کم جگہ چھوڑی گئی ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی گاڑی گزر سکتی ہے، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوسکتی ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) نے  آزادی مارچ کے شرکا کے لیے ٹریفک پلان اور شہریوں کے لیے متبادل راستے جاری کیے تھے۔

خیال رہے کہ آزادی مارچ کا مرکزی اجتماع ایچ- 9 میٹرو گراؤنڈ میں ہوگا اور مارچ کے شرکا کے لیے پارکنگ کی جگہ بھی مختص کی گئی ہے۔

اس دوران پشاور سے موٹر وے یا جی ٹی روڈ کے راستے سے آنے والے ریلیاں چنگی نمبر 26 کشمیر ہائی وے کے راستے شہر میں داخل ہوں گی، شرکا پشاور موڑ اور جی-9 ٹرن کی دونوں جانب اپنی گاڑیاں پارک کریں گے۔

جی ٹی روڈ کے راستے لاہور آنے والی ریلیاں اسلام آباد ایکسپریس وے جبکہ مری یا بھارہ کہو سے آنے والے ریلیاں ڈھوک کالا خان فلائی اوور سے فیض آباد پہنچیں گے اور نائنتھ ایونیو چوک آئیں گے جہاں سے وہ ایچ -9 گراؤنڈ جائیں گی، شرکا اپنی گاڑیاں نائنتھ ایونیو سروس روڈ (ویسٹ) پر پارک کریں گے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ چنگی نمبر 26 سے اسلام آباد کی جانب ٹریفک موڑی جائے گی اور موٹروے سے اسلام آباد آنے والے لوگ چنگی نمبر 26 فلائی اوور کے ذریعے مہرآباد پیرودھائی، آئی جے پرنسپل روڈ، فیض آباد فلائی اوور، مری روڈ، ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو جاسکیں گے۔

جی -11 میں کشمیر ہائی وے سے اسلام آباد کی جانب ٹریفک کا متبادل ہوگا جبکہ حاجی کیمپ چوک پر مہرآباد آئی جے پرنسپل روڈ کی جانب ٹریفک کا رخ موڑدیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جی-9، جی -10 اور جی -11 سے پشاور موٹروے یا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والے افراد اپنے سیکٹرز کے قریب سروس روڈ اور جی -11 ٹریفک سگنل کے ذریعے کشمیر ہائی وے استعمال کریں گے۔

ایکسپریس وے، بھارہ کہو، مری اور راولپنڈی جانے والے افراد مارگلہ روڈ، نائنتھ ایونیو، آئی جے پرنسپل روڈ یا فیصل ایونیو چوک، فیض آباد کا روٹ استعمال کرسکیں گے۔

مری یا بھارہ کہو سے موٹروے، پشاور یا ایئرپورٹ جانے والے افراد مری روڈ، راول ڈیم چوک اور آئی جے پرنسپل روڈ استعمال کرسکیں گے۔

علاوہ ازیں گولڑہ شریف سے اسلام آباد چوک تک ٹریفک کا متبادل روٹ ترتیب دیا گیا ہے جبکہ جی-11 یا گولڑہ سے آنے والی ٹریفک جی -11 سروس اور مارگلہ روڈز استعمال کرسکے گی۔

ساتھ ہی زیرو پوائنٹ سے کشمیر ہائی وے پر جی-11 ٹریفک سگنل تک بھی ایک اور متبادل روٹ دیا گیا ہے جبکہ جی-5، جی-6، جی-7، جی-8، ایف-6، ایف-7 اور ایف-8 سے راولپنڈی جانے والے افراد فیصل ایونیو، فیض آباد، مری روڈ اور آئی جے پرنسپل روڈ استعمال کرسکیں گے۔

ٹریفک پلان کے مطابق جی-9، جی-10، جی-11، ایف -8، ایف -10 اور ای-9 سے راولپنڈی جانے والے افراد مارگلہ روڈ اور نائنتھ ایونیو استعمال کرسکیں گے۔

سیکٹر آئی -10 میں نیسکام چوک سے فقیر ایپی روڈ آنے والے افراد کے لیے پولیس لائنز چوک کا متبادل روٹ دیا گیا ہے اور وہ نائنتھ ایونیو یا آئی جے پرنسپل روڈ جانے کے لیے آئی-10 (بیرونی روڈ) بھی استعمال کرسکیں گے۔

علاوہ ازیں سیون اپ چوک سے بازار سروس روڈ پر ایجوکیشن چوک کی جانب ایک متبادل روٹ قائم کیا جائے گا جبکہ سیکٹر ایچ -3/8، ایچ -4/8 اور آئی -9 کے رہائشی سیون اپ چوک سے نائنتھ ایونیو یا آئی جے پرنسپل روڈ جاسکیں گے۔

ساتھ ہی اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ایف ایم ریڈیو 92.4 شہریوں کو ٹریفک کی صورتحال سے باخبر رکھنے کے لیے خصوصی ٹرانسمیشن نشر کرے گا۔

پولیس نے کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے بھی پلان مرتب کیا ہے اور اس حوالے سے پولیس کے تمام سپرنٹنڈنٹس، سب ڈویژنل پولیس افسران اور اسٹیشن ہاؤس افسران کو ہدایات جاری کیں ہیں۔

ساتھ ہی ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے انسداد دہشت گردی فورس کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کرنے اور سیف سٹی ڈائریکٹر کو سی سی ٹی وی کے ذریعے صورتحال کی نگرانی کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

راولپنڈی

آزدی مارچ کے مقام سے متعلق الجھن کے باوجود راولپنڈی پولیس نے ٹریفک پلان اور سیکیورٹی انتظامات کرلیے ہیں جس میں شہر میں 4 ہزار پولیس اور 360 رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

راولپنڈی میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور متعلقہ حکام سے تعاون کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں ڈسٹرکٹ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں مارچ کی نگرانی کے لیے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں ایک اور کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جمیعت علمائے اسلام (ف) کے رہنماؤں اور صوبائی حکام کے درمیان ریلیوں کے روٹ سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، جے یو آئی (ف) ایکسپریس وے کے بجائے مری روڈ استعمال کرنے پر اصرار کررہی ہے جبکہ صوبائی حکام مری روڈ سے جانے کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔

مذکورہ صورتحال کے باعث پولیس ٹریفک کے متبادل پلان کو حتمی شکل دینے میں مشکلات کا شکار ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹی ٹریفک پولیس (سی ٹی پی) نے دونوں روٹس کے تناظر میں پلان مرتب کیا ہے۔

حکومت نے احتیاطا جڑواں شہروں کے تعلیمی ادارے بند کر دئے ہیں ۔ جڑواں شہروں کے درمیان میٹرو بس سروس بھی بند ہے اور آزادی مارچ کی ڈرون کوریج پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔