بیجنگ: چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی بین الاقوامی کانفرنس چین کے شہر ووہان میں منعقد ہوئی جس میں بڑے منصوبوں کی تعمیر اور ترقی کو فروغ دینے کے ذرائع اور طریقوں پر تبادلہ خیال کیاگیااس کا اہتمام چائنہ یونیورسٹی آف جیو سائنسز ووہان کے سی پیک ریسرچ سینٹر ، سکول آف پبلک ایڈمنسٹریشن اور سلک روڈ انسٹیٹیوٹ نے کیا تھا،چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق دو روزہ کانفرنس کے دوران دانشوروں ، ماہرین اور چین اور پاکستان کے دیگر مہمانوں نے سرمایہ کاری ، ملازمتوں ، غربت میں کمی ، خصوصی اقتصادی زون اور چین پاکستان تعلیمی تعاون اور دیگر امور پر غور کیا، کانفرنس سے دیگر کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم آفس کے اعلیٰ عہدیدار عبدالسمیع نے بھی خطاب کیا جنہوں نے سی پیک پرپاکستان کی خصوصی توجہبارے روشنی ڈالی،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سی پیک کو ترقی اور خوشحالی کے صدر دروازے کے طور پرسمجھتی ہے جو بہت زیادہ مواقع پیش کرتا ہے ،حکومت نے اپنی بھر پور کوششوں کے ذریعے سی پیک کو تجارت اور اقتصادی راہداری بنانے کا عزم کر رکھا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ چین کا عزم گوادر بندرگاہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ،گوادرمیں سی پیک کے تحت منصوبے نا صرف مقامی معیشت کو فروغ دینے بلکہ نوجوانوں کیلئے روزگار پیدا کرنے میں بھی اہم ہیں جہاں تک خصوصی اقتصادی زون کا تعلق ہے انہیں بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ذریعے ترقی دی جائے گی، پاکستان زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور چین کو خدمات کی برآمد کیلئے کاروباری ماحول مزید بہتر بنائے گا ،پاکستان ریسرچ سینٹر پیکنگ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ٹینگ مینگ شینگ نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر اور ترقی کے بارے میں ووہان میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کیا انہوں نے کہا کہ سی پیک اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس کا اہم حصہ صنعتی پارک کی تعمیر ہے انہوں نے اس سلسلے کچھ تجاویز بھی پیش کیں،پہلی یہ کہ صنعتی پارک جدید ہونے چاہئیں اور دوسری یہ کہ صنعتی پارکوں کی پوزیشن(محل وقوع) درست ہونا چاہئے،سرحدی علاقوں کے ساتھ صنعتی تعاون کو مضبوط بنایا جانا چاہئے تاکہ اس سے دونوں اقوام کو فائدہ پہنچ سکے ،تیسرا یہ کہ موجودہ صنعتی پارکوں کا درجہ بڑھایا جائے ۔پاکستان کی مینوفیکچرنگ صنعت کو فروغ دیا جائے تاکہ اس کی برآمدات میں اضافہ ہو ،چوتھا یہ کہ صنعتی پارکوں کی ترقی مجموعی طور پر کی جانی بہتر ہے اس کی بجائے کہ یہ صوبائی سطح پر کی جائے ،سی پیک ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر زی زیائو کنگ نے سی پیک کے فریم ورک کے تحت پاکستان میں ملازمتوں کے فروغ پر چینی سرمایہ کاری کے اثرات بارے بتایا اور اپنا مطالعہ پیش کیا،زی نے اس سلسلے میں پانچ تجاویز پیش کیںاور کہا کہ سی پیک فریم ورک کے تحت طویل المیعاد مشترکہ ملازمت پالیسی ہونی چاہئے،ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام ہونا چاہئے اور مشترکہ بنیادیں تعمیر ہونی چاہئیں،عملے کی تربیت پر بھر پور توجہ دینی چاہئے اورمزدوروں کے تحفظ کیلئے کڑی نگرانی ہونی چاہئے،مقامی افراد کیلئے ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہونے چاہیں، چائنہ یونیورسٹی آف جیو سائنسز ووہان کا سی پیک ریسرچ سینٹر2017 میں قائم کیا گیا تھا جس کا مقصدچین اور پاکستان کے درمیان اسے تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی تعاون کا پلیٹ فارم بنانا تھا ۔
Related Posts
پاکستانی فضائی حدود کی بند ش سے ساڑھے 5ارب کا نقصان ہو چکا:بھارتی وزیر
- Rizwan Malik
- July 5, 2019
- 0
نئی دہلی:اکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارت کو ساڑھے 5ارب روپے کا نقصان ہوگیا،بھارتی وزیر سول ایوی ایشن ہردیپ سنگھ پوری نے راجیہ سبھا […]

سینگ کاٹنے کی کوشش میں دو سینگوں والے بابا ذوالقرنین150 سال کی عمر میں انتقال کرگئے
- Rizwan Malik
- March 22, 2023
- 0
سو سال عمر ہوتے ہی علی عنتر کے سر پر سینگ نکل آئے تھے 150 سال کی عمر میںگھر والوں نے آگ سے انہیں ختم […]

تربت میں قتل ہونے والے افراد کا تعلق سیالکوٹ ، منڈی بہاو الدین،گجرات،گوجرانوالہ،اور واہ سے ہے
- Rizwan Malik
- November 15, 2017
- 0
تربت میں قتل ہونے والے15 میں سے 11 ،افراد کی شنا خت ہو گئی ہے .مرنےوالوں کا تعلق پنجاب کے علاقوں منڈی بہاودیں وزیر آباد […]
