سی پیک کے دوسرے مرحلے میں چین خیبر پختون کے قبائلی علاقوں میں آئندہ تین سے چار سالوں کے دوران اٹھاون اسکولوں اور تیس اسپتالوں کی تعمیر کے لئے پاکستان کی مدد کرے گا

اسلام آباد:چین خیبر پختون خواہ کے قبائلی علاقوں میں آئندہ تین سے چار سالوں کے دوران اٹھاون اسکولوں اور تیس اسپتالوں کی تعمیر کے لئے پاکستان کی مدد کرے گا۔گوادر پرو میڈیا نیٹ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں کم ترقی یافتہ علاقوں میں سماجی شعبے کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔سماجی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے لوئر دیر کے علاقے تیمر گرہ میں این پینتالیس ہائی وے کو سی پیک کے شمالی روٹ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا دوسری جانب بلوچستان کے ضلع ژوب میں سی پیک کا مغربی روٹ این پینتالیس کے ساتھ ملایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ضرورت کے تحت خیبر پختونخواہ کے اضلاع سے گزرنے والی ہائی وے کو سی پیک کے متبادل روٹ کے طور پر بھی استعمال میں لایا جاسکے گا۔پاکستان اور چین کوئٹہ اور چمن کو گوادر اور پشاور سے کابل اور اس سے آگے قزاقستان کے علاقے کو ریلوے ٹریک سے لنک کرنے کے جامع منصوبے پر بھی کام کررہے ہیں چینی حکومت کے تعاون سے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومت قبائلی اضلاع کے لئے جامع ترقی کے منصوبے شروع کررہی ہے جس سے قبائلی عوام کو تعلیم کے حصول کے ساتھ روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جس سے ان علاقوں میں پائیدار امن کا قیام یقینی ہوگا۔اس حوالے سے خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی محمود خان نے حالیہ دنوں میں وزیر اعظم کے نیشنل ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام کے تحت قبائلی اضلاع کے لئے باجوڑ میں چھ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ان منصوبوں میں زیتون کی کاشت اور زیتون کے بیجوں سے تیل کا حصول، ارزاں نرخوں پر گندم کے بیج کی فراہمی،پولٹری،لائیوسٹاک اور ڈیری کے کاروبار کے لئے دودھ کے چلرز کی تقسیم شامل ہیں۔وزیر اعظم کے نیشنل ایگریکلچرل ایمرجنسی پروگرام کے تحت خیبر پختونخواہ میں آئندہ چار سالوں کے دوران زراعت،لائیو سٹاک،فشریز اور زرعی آبپاشی کے شعبوں کی ترقی کے لئے چوالیس ارب پچاس کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔رواں سال کے شروع میں خیبر پختونخواہ کی حکومت نے ستر ارب روپے کی لاگت سے صوبے میں ضم ہونے والے ساتوں قبائلی اضلاع کو صوبے کے دیگر علاقوں سے ایک بڑی شاہراہ کے ذریعے منسلک کرنے کی تجویزپر غور کیا تھا۔صوبائی حکومت نے ان ساتوں قبائلی اضلاع کو آپس میں منسلک کرنے کے لئے ایک ہائی سپیڈ ہائی وے کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا ہے۔