
امریکی شہر لاس ویگس کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک کنسرٹ میں ہونے والی فائرنگ میں کم از کم 58 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق چونسٹھ سالہ مسلح شخص سٹیفن پیڈک نے مینڈیلے بے ہوٹل کی 32ویں منزل سے باہر منعقد ہونے والے میوزک فیسٹیول میں شریک افراد پر فائرنگ کی تھی۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص ہلاک ہوگیا ہےپولیس کے مطابق اب میریلو ڈینلے نامی اس خاتون کی تلاش ہے جو حملہ آور کے ساتھ سفر کر رہی تھی۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ مسلح شخص نے مینڈیلے بے ہوٹل کی 32ویں منزل سے باہر منعقد ہونے والے میوزک فیسٹیول میں شریک افراد پر فائرنگ کی تھی۔
سوشل میڈیا پر جاری ہونے جانے والےی ویڈیوز اور تصاویر میں سینکڑوں افراد کو جائے وقوعہ سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض کلپس میں بظاہر خودکار اسلحے سے فائرنگ کی آواز بھی سنی جا سکتیں ہیں۔
پولیس کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حملہ آور کا تعلق کسی دہشت گرد گروہ سے ہے یا نہیں۔
تاہم امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق لاس ویگس حملے بین الاقوامی دہشت گرد گروہ شامل نہیں ہیں۔
ایف بی آئی کے ایجنٹ ایرن روز نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’فل حال ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس واقعے کا تعلق بین الاقوامی دہشت گردی سے نہیں ہے۔‘
امریکی صدر نے اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اسے شیطانی عمل قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاوس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس مشکل کی گھڑی میں امریکی شہری ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے حملے کے بعد امدادی کارکنوں اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بھی سراہا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں واقعے میں متاثر ہونے والے افراد سے اظہارِ ہمدردی کیا تھا۔
براہ راست ٹی وی فوٹیج میں لاس ویگس کے اس علاقے میں بڑی تعداد میں مسلح پولیس کو دیکھا جا سکتا ہے۔
پولیس نے لوگوں سے اس علاقے سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔ اس فائرنگ میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی پولیس کے سربراہ جو لامبارڈو نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ہے کہ شہریوں پر حملے میں صرف ایک شخص ملوث ہے۔
پولیس سربراہ کے مطابق مرنے والوں میں ایسے پولیس افسران بھی شامل ہیں جو ڈیوٹی پر نہیں تھے۔
پولیس نے علاقے میں اس طرح کے ایک اور واقعے کی اطلاعات کو غلط




