بھارت کا متنازعہ شہریت بل دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے، عامر صدیقی

راولپنڈی:مقبوضہ کشمیر کے عوام کو 136 دن سے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں انہیں صحت ، خوراک، انٹرنیٹ و دیگر رابطوں سے محروم رکھ کر بھارت کشمیر کے مظالم پر پردہ نہیں ڈال سکتا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اگر جسم کے ایک حصے کی تکلیف پر پورا جسم تڑپ کہ رہ جاتا ہے بالکل اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف پر دوسرے مسلمان بھی محسوس کرتے ہیں بھارتی ظالمو نے مقبوضہ کشمیر پر مظالم کی انتہا کر دی جو ناقابل برداشت ہیں ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق امیدوار اور ترقی پسند فلاحی تنظیم کے صدر محمد عامر صدیقی نے کشمیری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے کیا انہوں نے کہا دنیا بھرمیں جانوروں تک کے حقوق کے علمبرداروں کا مقبوضہ کشمیر میںجاری تقریبا 136دن سے کرفیو اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں کشمیری بچے اغوااور لاپتہ ، خواتین کی عصمت دری ، بزرگوں پہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں عوام کو قیدی بنا رکھا گیا ہے عوام کو خوراک ، ادوایات دودھ سمیت اشیائے خوردونوش کی قلت کا سامنا ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کشمیری قوم آج کر بلا جیسے حالات کا سامناکر رہے ہیں اگر یہ ظلم و بربریت کا بازار جاری رہا تو کہیں بہت دیرنہ ہو جائے اقوام عالم کو بھارتی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے انہیںاستصواب رائے کا حق دلائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کر سکیںعامر صدیقی نے کہا کہ بھارت کی سوچ دنیا کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے بھارت کی تمام اقلیتیں متنازعہ شہریت بل کے خلاف آج سراپا احتجاج ہیںبھارتی پولیس کا مسلم یونیورسٹیز کے طلبہ پر لاٹھی چارج ، ہندو انتہا پسنددانہ سوچ کا عکاس ہے اگر مسلمانوں پر بھارتی مظالم جاری رہے تو پاکستانی قوم دنیا بھر میں آواز بلند کرتے ہوئے مظلوموں کی حمایت جاری رکھے گا۔