
کراچی:پاکستان نے کراچی میں کھیلے جانے والے دوسرے اورآخری کرکٹ میچ میں سری لنکا کو 263رنزکے بڑے مارجن سے شکست دے کر سیریز ایک صفر سے جیت لی ۔پاکستان کی جیت کے بعد کپتان اظہر علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ٹیم کی پرفارمنس بہت اچھی رہی، ہم اس میچ میں کافی دیر دباؤ میں رہے کیونکہ پہلی اننگز میں 191 رنز پر آؤٹ ہو گئے تھے لیکن باؤلرز عمدہ کارکردگی دکھا کر ہمیں میچ میں واپس لائے اور اس کے بعد بہترین اوپننگ پارٹنرشپ ہوئی ۔ کپتان نے کہا کہ اس میچ میں چند بہترین پرفارمنس ہوئی ہیں، جس سے سب بہت خوش ہیں، میری اپنی کارکردگی بھی اچھی رہی کیونکہ میں کافی عرصے سے رنز کے لیے جدوجہد کر رہا تھا اور کوشش کروں گا کہ اس تسلسل کو برقرار رکھوں۔بنگلہ دیشی ٹیم کے دورے کے حوالے سے اظہر نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ آخر ٹیسٹ میچز کے لیے پاکستان نہ آنے کی وجہ کیا ہے، کوئی عذر نہیں بنتا، یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہے لہٰذا اس کو پاکستان میں ہی منعقد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کئی ٹیمیں آ کر کھیل چکی ہیں، ورلڈ الیون کی ٹیم آئی، پاکستان سپر لیگ ہوئی، اہم کھلاڑیوں نے دورہ کیا، انٹرنیشنل کرکٹ ہو رہی ہے، سری لنکا کی ٹیم ایک بھی نہیں دو ٹیسٹ میچ کھیل کر جا رہی ہے اس لیے مجھے تو سمجھ نہیں آ رہی کہ ٹیسٹ میچوں کے لیے پاکستان نہ آنے کی کیا وجہ ہے۔
اگر ہم ایشیا میں ٹیمیں اور کرکٹ بورڈ ایک دوسرے کو سپورٹ نہیں کریں گے تو بات کہاں جائے گی، ہم ٹیسٹ کرکٹ کم کھیل رہے ہیں اور بنگلہ دیش کو بھی ٹیسٹ کرکٹ کم مل رہی ہے لہٰذا ان حالات میں ہمیں ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے اور میں چاہوں کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے کیونکہ لوگوں کو معیاری کرکٹ دیکھنے کو ملی ہے، اس لیے بنگلہ دیش کے پاس پاکستان نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیریئر میں کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہا ہوتا کہ رنز کیوں نہیں ہو رہے، وکٹ پر سیٹ ہونے کے باوجود آؤٹ ہو رہے ہوتے ہیں، کبھی ہم آؤٹ ہو جاتے ہیں اور کبھی باؤلرز بہت اچھی گیند کر لیتا ہے اور اگر یہ خراب کارکردگی کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہے تو بلے باز پر دباؤ ہوتا ہے اور اس سے نکل کر اسکور کرنا کسی بھی بلے باز کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے اوپنرز عابد علی اور شان مسعود کو کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اوپنرز نے دباؤ میں بہت اچھا اسکور کیا، دونوں نے سنچریاں اسکور کیں اور اس ان دونوں کے کیریئر مزید اونچائیوں پر جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ٹیسٹ سیریز جیتنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے، نیا باؤلنگ اٹیک ہے، ابھی ہمیں تجربہ حاصل کرنا ہے، ابھی اس ٹیم کو بننا ہے اور آگے جانا ہے اور پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی اچھی کارکردگی دکھانی ہو گی۔
کپتان نے مزید کہا کہ یاسر شاہ ہمارا بہترین اسپنر ہے، اس کا خراب دور چل رہا ہے لیکن دو تین سیریز میں خراب کارکردگی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ برے باؤلر ہیں، وہ عالمی ریکارڈ کے حامل باؤلر ہیں جنہوں نے ہمیں ماضی میں متعدد فتوحات سے ہمکنار کرایا اور ہمیں امید ہے کہ وہ فارم میں واپس آ کر ہمیں دوبارہ میچز جتوائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نسیم شاہ نے آدسٹریلیا میں بھی اچھی باؤلنگ کی، سب نے ان کی باؤلنگ کی آسٹریلیا میں بھی تعریف ہوئی، ان کو احتیاط سے استعمال کرنا پڑے گا کیونکہ وہ نوجوان ہیں جبکہ شاہین شاہ بھی مستقل اچھی باؤلنگ کرتے ہیں، سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ وہ بار بار باؤلگ مانگتا ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ سے زیادہ باؤلنگ کرنا چاہتا ہے جس سے امید ہے کہ ان کا کیریئر آگے جائے گا۔




