
اسلام آباد:پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین محمد صدیق نے لاکھوں پاکستانی نوجوانوں کی امریکی کاروباری کمپنیوں اور تاجروں تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے مفت تربیت کا اعلان کر دیا۔آن لائن طریقہ کار کے تحت نوجوانوں کو امریکہ میں کاروبار کے طریقہ کار کی آگاہی دی جائیگی۔امریکہ میں دنیا کے سب سے زیادہ تیس لاکھ چھوٹے کاروبار ہوتے ہیں 4.8 ٹریلین ڈالر کا سالانہ کاروباری حجم ہے۔عوامی خدمت کے جذبے کے تحت پاکستانی نوجوانوں کو امریکی میں کاروبارکے مواقع فراہم کرنا چاہتے ہیں جس میں تعلیم،عمر،زبان کی کوئی قید نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ماہر امور سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی اورایرن کیش فلو ویدآئوٹ انویسمنٹ کے بانی پاکستانی نژاد امریکی محمد صدیق نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان انتہائی باصلاحیت ہیں۔مواقع تک رسائی کی ضرورت ہے کوئی ایسا کام نہیں جو پاکستانی نوجوان نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے تیس لاکھ مختلف چھوٹے کاروبار ہو رہے ہیں جس میں سالانہ 4.8 ٹریلین ڈالرکا سالانہ کاروبار ہوتا ہے پاکستان کے نوجوان بغیر کسی معاوضے کے امریکی کاروبار تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور گھر بیٹھے ماہانہ ڈالرز کما سکتے ہیں اس کے لیے کسی معاوضے کی ضرورت نہیں ہے صرف تعلیم کو استعمال کرنا پڑے گا کسی بھی زبان میں وہ امریکی کاروبار تک اپنی رسائی کو ممکن بنا سکتے ہیں پنجابی،پشتو،سندھی،بلوچی اور اردو کسی بھی زبان میں آپ آن لائن مختلف امریکی کمپنی یا تاجر سے بات اور ڈیلینگ کر سکتے ہیں اس کے لیے ویلتھ کیش فلو چیلنجزڈاٹ کام کے ذریعے تربیت دی جائے گی ہماری طرف سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا جائے گا پہلے بھی ہم ایک پروگرام کے تحت ہم پاکستان کے دو لاکھ نوجوانوں کو تربیت دے چکے ہیں پاکستانی نوجوانوں کو ڈالر کمانے کا طریقہ بتا رہے ہیں ٹیکنالوجی کا دور ہے مواقع تک رسائی کی تربیت دی جائے گی اس کے لیے سمارٹ فون اور بینک اکائونٹ ہونا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ہمارے ویب پیکیج پر آئیں اور اپنی خواہش بتائیں ہم آپ کی رہنمائی کریں گے پاکستان میں آن لائن بزنس کمانے کا طریقہ بتانے کا مقصد صرف اور صرف عوامی خدمت ہے یہی جذبہ کارفرما ہے ۔پورے پاکستان سے گزارش ہے کہ ہمارے شانہ بشانہ چلیں نوجوانوں کے ذریعے اربوں ڈالر پاکستان آنا شروع ہو جائیں گے امریکی تاجر اور امریکی کمپنی سے پاکستان میں بولی جانے والی کسی بھی زبان میں بات کر سکتے ہیں انگلش اگر آتی ہے تو اس سے زیادہ فائدہ ہو گا تعلیم اور عمر بھی کی کوئی حد نہیں ہے ایف اے بھی کافی ہے۔انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں کاروبار کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہے پاکستان بیٹھے آپ کی ساری ڈیلینگ ہوگی امریکی کاروبار تک رسائی کا انتخاب اس لیے کیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ چھوٹے کاروبار امریکہ میں ہوتے ہیں مجھے خود بھی تجربہ ہے پاکستانی نژاد امریکیوں سرمایہ کاری و کاروباری جدید طریقوں کے علاوہ سے پاکستانی نوجوانوں کو تربیت دینا چاہتے ہیں اور کوئی بھی مفاد وابستہ نہیں ہے۔



