
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ملک کے مشکل معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو گا، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت اور سماجی شعبے کو بھی شامل کر لیا گیاہے ، جس سے پاکستان کو زرعی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی،
سی پی ای سی کو ملک کی خوش قسمتی قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علم اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے سی پیک پاکستان کو معاشی دلدل سے نکلنے میں مدد فراہم کرے گا۔ وہ جمعرات کو یہاں اسلام آباد اسٹاک ایکسچینج کے اشتراک سے پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیر اہتمام “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے چھ سال اور چین پاکستان اقتصادی راہداری ” کے عنوان سے منعقدہ خصوصی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔
چین میں کورونا وائرس کے بارے میں اسد قیصر نے کہا کہ چین نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کی حکومت اور عوام چین کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ہم سی پیک کمیٹی بنانا اورااسے تھنک ٹینک میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ایس ڈی پی آئی اس سلسلے میں ہمارے ساتھ تعاون کرے۔ پاکستان میں چین کے سفیر یاو جِنگ نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پی ای سی اور دیگر بین الاقوامی تعاون کے منصوبے ہیں ۔ بی آر آئی نے مستفید ممالک کے لئے قابل اعتبار اور ٹھوس فوائد فراہم کئے اورسی پیک اس کی کامیاب مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ “میں سی پی ای سی کو چین اور پاکستان کے تاریخی تعلقات کے تناظر میں دیکھ رہا ہوں ، جہاں سی پی ای سی نے اقتصادی محاذ پر نئی توجہ اور نئے مواقع فراہم کئے ہیں” ،انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ای سی سے پاکستان کی واضح سمت اور مستقل پالیسیوں کے تحت طویل مدتی مدد ہوگی۔ کورونا وائرس کی وبا کے بارے میں انہوںنے کہا کہ اس سے چین اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعاون نہیں رکے گا ،ہم مشکل وقت میں ساتھ دینے پر پاکستانی حکومت اور عوام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں زیادہ اعتماد دیا ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر ، ایس ڈی پی آئی نے کہا کہ اقتصادی راہدری کے حوالے سے دنیا میںمختلف قسم کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ سی پیک کا منصوبہ چین کا استعمار ی منصوبہ ہے جس سے پاکستان پر چین کا غلبہ ہوگا اور پاکستان چینی قرضوں کے جال میں پھنس کر رہ جائے گا جبکہ گوادر کو تجارتی منصوبے کے بجائے ایک تزویراتی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے،جو کہ درست نہیں،یہ سب بے بنیاد باتیں ہیں جو اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر کا چہ بہار بندرگاہ ایران کے ساتھ مقابلہ غلط ہے کیونکہ اس کا اس سے کوئی موازنہ نہیں ہے کیونکہ گوادر گہری سمندری بندرگاہ ہے جبکہ چاہ بہار گہری سمندری بندرگاہ نہیں ہے۔
انہوںنے کہا کہ چین مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے لئے تعاون کر رہا ہے۔ چین اب ایشیاکے لئے ایک مشترکہ معاشی اہم مقام بن گیا ہے ، کیونکہ چین بنیادی ڈھانچے میں ایشین ممالک میں سرمایہ کاری کررہا ہے ، جس میں پاکستان ، افغانستان ، بھوٹان وغیرہ شامل ہیں۔ چین خطے میں معاشی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوںنے کہا کہ چین ہندوستان اور پاکستان میں امن کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ چائنا اسٹڈی سنٹر کے نمائندے نے کہا کہ دنیا میں اب بھی 600 ملین سے زیادہ افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ، تقریبا 2 ارب لوگوں کو پینے کے صاف پانی ، 1.1 بلین افراد کو بجلی کی ضرورت ہے جبکہ 263 ملین بچے ابھی بھی سکول سے باہر ہیں۔ ان عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ، دنیا کو خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو سی پی ای سی اور بی آر آئی جیسے منصوبوں کی ضرورت ہے جن کا مق
صد علاقائی انضمام کو بہتر بنانا ، تجارت میں اضافہ کرنا اور معاشی نمو کو متحرک کرنا ہے۔

