لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف منگل کو محمد مقبول بٹ کا36واں یوم شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا

 

اسلام آباد: لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف منگل کو محمد مقبول بٹ کا36واں یوم شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا
اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی گئی جبکہ آزاد کشمیر بھر میں جلسے جلوس اور مظاہرے کیے گئے ، ان پروگراموں میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ محمد مقبول بٹ کا جسد خاکی کشمیریوں کے حوالے کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر میںمحمد مقبول بٹ کے36ویں یوم شہادت پر ہڑتال کی اپیل جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ، کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق کے زیرقیادت حریت فورم ، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور دیگر حریت رہنماں اور تنظیموں نے کی تھی۔
جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی محمد مقبول بٹ کو 11فروری1984 کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ انکی میت جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دی تھی۔ کے پی آئی کے مطا بق مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے مقبول بٹ کے یوم شہادت کی برسی کے سلسلے میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے روکنے کیلئے سیکورٹی کے نام پر سخت پابندیاں لگا رکھی تھیں اضافی فوجیوں کو تعینات کردیاگیا ہے جبکہ مقبوضہ علاقے میں مسلسل لاک ڈائون جاری ہے اور مظاہروں کو روکنے کیلئے تمام بڑی سڑکوںپرخار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں
وادی کشمیرمیں مسلسل 191ویں روز بھی فوجی محاصرے اور انٹرنیٹ کی معطلی کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے۔ بھارتی پولیس نے ضلع کشتواڑ میں ایک نوجوان کو گرفتار کرلیا۔اس نوجوان کی شناخت رستم علی کے نام سے ہوئی ہے جو ضلع کے علاقے ڈول ناگسینی میں گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ایس ایس پی کشتواڑ ہرمیت سنگھ نے میڈیا والوں کو بتایا کہ ہم نے رستم علی کو گرفتار کیا ہے اور اسے این آئی اے کے حوالے کردیں گے۔ دریں اثنا سری نگر کی ایک عدالت نے سہیل لون ، صہیب منظور اور ظہور احمد خان نامی تین نوجوانوں کو سات دن کے لئے پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے۔ پولیس نے جموں میں ایک حملے کے الزام میں ان پر مقدمہ درج کیا ہے ۔