افغان جلد خوشخبری سنیں گے جب تاریخی امن معائدے پر دستخظ ہونے کے بعد افغانستان سے تمام غیرملکی افواج کا انخلاء شروع ہوگا،طالبان

دوہا،نیویارک: طالبان نے کہاہے کہ افغان قوم جلد خوشخبری سنیں گے جب تاریخی امن معائدے پر دستخظ ہونے کے بعد افغانستان سے تمام غیرملکی افواج کا انخلاء شروع ہوگا ،رواں مہینے کے آخر تک امن معاہدہ پر دستخط ہونگے ،طالبان کے نائب امیر( ڈپٹی لیڈر) سراج الدین حقانی نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں شائع اپنے مضمون میں کہا ہے کہ افغانستان کے عوام بہت جلد تاریخی معاہدے پر خوشیاں منائیں گے، جب اس پر مکمل طورپر عملدرآمد ہوگا افغانستان کے عوام اپنی سرزمین سے تمام غیر ملکی افواج کا انخلاء شروع ہوتے دیکھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ جب ہم اس تاریخی کامیابی کو حاصل کریں گے مجھے یقین ہے کہ ہمارا یہ خواب بہت دور نہیں ، ہم ایسا دن جلد دیکھیں گے جب ہمارے افغان بھائی اور بہنیں ایک ساتھ پائیدار امن کی جانب آگے بڑھیں گے اور ایک نئے افغانستان کی بنیاد ڈالیں گے۔ اس کے بعد ہم ایک نئی شروعات کریں گے جس کے بعد ہمارے تمام ملکسے جلاوطن اپنے ملک میں آکر امن اور عزت کے ساتھ زندگی بسر کریں گے۔ امن مذاکرات کے بارے میں سراج الدین حقانی نے اپنے مضمون میں آگے چل کر لکھا ہے ہمارے نمائندوں نے امریکہ کے ساتھ 2018ء میں مذاکرات شروع کیے اس امید کے ساتھ کہ مذاکرات سے نتائج حاصل ہوں گے لیکن ان سے کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔ ہمیں 18 سال کی جنگ کے بعد امریکی عزائم پر بھروسہ نہیں تھا اور اس سے قبل مذاکرات کے سلسلے میں ماضی کی کوششیں بھی فضول ثابت ہوئیں اس کے باوجود ہم نے ایک دفعہ پھر مذاکرات میں آگے بڑھنے کی کوشش کی کیونکہ طویل جنگ سے ہر ایک کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔
ہم نے سوچا کہ کامیابیوں کو ایک طرف رکھ کر امن کی خاطر ہمیں اپنی صلاحیتوں کو ایک دفعہ پھر استعمال کرنا چاہیے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران ہر روز قیمتی افغان جانیں ضائع ہوئیں، ہر ایک نے کسی نہ کسی طرح سے کوئی ایسا عزیز کھویا جسے وہ پیار کرتا تھا اور ہر ایک جنگ سے تنگ آچکا ہے۔ اب یہ سلسہ بند ہونا چاہیے۔ سراج الدی حقانی نے مضمون میںکہاکہ ہم نے امریکی قیادت میں غیر ملکی اتحاد سے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ ہمیں اپنے دفاع کیلئے مجبور کیا گیا۔ غیر ملکی افواج کی واپسی ہمارا پہلا اور سب سے بنیادی مطالبہ ہے جس پر ہم آج بھی امریکہ کے ساتھ امن معاہدے پر اپنے موقف پر قائم ہیں۔ سراج الدین حقانی نے کہاکہ ہمارے ساتھی ملا عبدالغنی برادر اور شیر محمد عباس ستانک زئی کی سربراہی میں ہماری مذاکراتی ٹیم نے گزشتہ 18ماہ سے امریکی مذاکرات کاروں سے امن معاہدے کو ممکن بنانے کیلئے سخت محنت کی۔
حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات معطل کرنے کے باوجود ہماری طرف سے امن کا دروازہ کھلا رکھا گیا کیونکہ جنگ سے ہم افغانی ہی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ باہمی سودا بازی کے بغیر کوئی بھی امن معاہدہ ممکن نہیں۔ ہم غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں افغانستان کے اندر اور باہرکے خدشات کے بارے میں بخوبی آگاہ ہیں۔ ان خدشات کا جواب دیتے ہوئے طالبان کمانڈر نے کہاکہ یہ افغانیوں کے درمیان اتفاق رائے پر ہی منحصر ہوگا اور اس عمل میں کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایک نئے سیاسی نظام جس میں ہر افغانی کی آواز کی عکاسی کی گئی ہو پر اتفاق رائے کیلئے دوسری جماعتوں سے بھی تعمیری مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ غیر ملکی مداخلت اور قبضے سے آزادی کے بعد ہم افغانی مل کر ایک اسلامی نظام قائم کرنے کا راستہ تلاش کریں گے جس میں تمام افغانیوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور خواتین کو اسلامی نظام کے تحت حقوق کے علاوہ تعلیم اور کام کرنے کے حقوق بھی میسر ہوں گے۔