
عظمی گل دختر جنرل حمید گل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہوا کے گھوڑے پر سوار آئے اور چلے بھی گئے۔ بہت شور تھا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں تمام حالات کا جائزہ لینے خود بنفس نفیس تشریف لا رہے ہیں۔ کمال ہے، کشمیریوں کا اتنا درد رکھنے والے سیکرٹری جنرل نے لائن آف کنٹرول پر حالات اپنی آنکھوں سے دیکھنا تک بھی گوارا نہیں کیے۔ تقریبا 200 دن گزرنے کے باوجود انھوں نے زبانی کلامی جمع خرچ پر گزارہ کیا۔ مسئلہ کشمیر پر تقریر بھی کی۔ اچھی تھی! مگر یہ کونسی بڑی بات ہے؟ تقریر کرنا تو آج کا سب سے بڑا ہنر ہے۔ سننے والوں کو خوش بھی کر دیا جاتا ہے اور کرنا بھی کچھ نہیں پڑتا ماسوائے "تقریر” کے۔ ویسے سیکرٹری جنرل کو کشمیر کے لیے پاکستان آنے کی ضرورت بھی کیا تھی؟ یہاں تو امن ہی امن ہے، سب ٹھیک ہے، مسئلہ تو مقبوضہ کشمیر میں ہے۔ اگر وہ ہندوستان جاکر مقبوضہ کشمیر جانے کا اعادہ کرتے تو ہندوستان میں کون تھا جو ان کو روک سکتا؟ کسی کی مجال نہ ہوتی اور اس طرح ان بے بس اور لاچار لوگوں کی بھی سنی جاتی۔ ان کے بہانے غیر ملکی میڈیا بھی وہاں جا پہنچتا اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا۔ مگر وہ ایسا کیوں کرتے؟ وہ تو کشمیر کے معاملے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔ اگر ان کو واقعی دلچسپی ہوتی تو آج تک کچھ کیا کیوں نہیں؟دراصل وہ تو افغانستان کے لیے پاکستان آئے تھے اور لگے ہاتھوں کشمیر پر بھی خانہ پوری کر ڈالی۔ جتنے دن بھی یہاں رہے ادھر ادھر کی غیر اہم مصروفیات میں وقت گزارا۔ کرتارپور پر تو موصوف کے پاس اتنا وقت تھا کہ لنگر بھی تناول فرمایا۔ وہ درحقیقت پاکستان سیاحتی دورے پر تشریف لائے تھے البتہ کشمیر پر یا لائن آف کنٹرول پر ان کی نظر کرم بھی نہ پڑی۔کرتار پور، بادشاہی مسجد اور لمز یاترا پر ہی اکتفا کیا۔ بہت درد تھا زلمے خلیل زاد کی بات میں کہ "افغانستان میں بہت جنگیں ہو چکیں، بس اب امن چاہتے ہیں” واہ کیا کہنے!
کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
اب جب طالبان نے امریکہ اور اس کی26 اتحادی فورسز کو شکست کی خاک چٹا دی اور ان کو افغانستان سے باہر با عزت نکلنے کا راستہ بھی نہیں مل رہا، ایسے میں افغانوں کے ہمدرد جانے کہاں کہاں سے آ وارد ہوئے ہیں۔ اب سب ہی امن کے داعی بن کر معاملات کو الجھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہر قیمت پر ،کسی بھی طرح، طالبان کی فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کی ان گنت سازشیں کی جارہی ہیں۔ جنرل حمید گل نے طالبان کو ان کے پہلے یوم دفاع پر ،جہاں وہ بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ،کہا تھا کہ مغرب کی سازشوں سے بچنے کا طریقہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی ادارے سے قرض نہ لینا۔ اگر ایسا کیا تو افغان جو صدیوں سے آزاد ہیں اور اب تک کسی کی غلامی قبول نہیں کی ہے، چند ہی برسوں میں ورلڈ بینک،آئی ایم ایف کے ذریعے غلام بنا لیے جائیں گے۔ طالبان کے اعلامیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے عین اسلامی اصولوں کی بنیاد پر معاہدہ کرنے کا اعادہ کیا ہے اور وہ اپنے موقف سے ذرا برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ الحمدللہ۔
ایف اے ٹی ایف ایک ایسا پھندا ہے جس میں ہم بری طرح سے پھنس چکے ہیں۔ ہماری حکومت کی یہ خواہش کہ گرے لسٹ سے کسی بھی قیمت، کسی بھی طریقے سے نکلنا، ناکام ہوتی نظر آرہی ہے ۔حکومت کے اردگرد کے معاشی ماہر بھی اسی بات کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ان کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ وہ تو خود اس نظام کے تعلیم یافتہ ہیں۔لہذا انہی کی عینک سے حالات کا جائزہ لینے کے عادی ہیں۔ اسی لیے تو آج تک ہمارے بڑے بڑے معاشی ماہر، ہماری معیشت کو صحیح ڈگر پر نہیں ڈال سکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ "آؤٹ آف باکس سلوشن”یعنی غیر روایتی حل تلاش کیا جائے۔ اس نظام میں رہ کر انتہائی اونچی شرح سود پرقرضہ جات حاصل کرکے ہم کبھی بھی معیشت کو سنبھالا نہ دے سکیں گے۔ معیشت کی حالت روز بروز دگرگوں ہوتی جائے گی ایسی صورتحال میں ایف اے ٹی ایف جیسا پھندا تو صرف ہم کو پھانسی دینے کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم آج بھی گرے لسٹ میں برقرار رکھے گئے ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ بلیک لسٹ ہم نہیں کئے جاسکتے کیوںکہ سی پیک کی وجہ سے چین ایسا ہونے نہیں دے گا۔ باقی رہ گئے ملیشیا اور ترکی جنہوں نے ہمارا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہوا ہے ۔وہ ساتھ دینگے۔ یوں بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے درکار مطلوبہ تین ووٹ ہمارے پاس ہیں جبکہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے درکار 15 ووٹ ہمیں کبھی بھی امریکہ کی اجازت کے بغیر نہیں مل سکتے۔ امریکہ ہی کی شہ پر بھارت نے دفعہ370 کی واردات کی۔ امریکہ افغانستان کے معاملے پر بھی ہماری گردن پر انگوٹھا رکھ کر مرضی کا فیصلہ کرانا چاہتا ہے، امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کی بقا کے لئے ہماری جوہری صلاحیت سے بھی خائف ہے اور اس کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ امریکہ ہمارے جہادی جذبے سے بھی بہت نالاں ہے۔ لہذا گرے لسٹ میں سے نکلنا ہمارے لئے وہ گاجر ہے جسے ہمیں دکھا کر ہر وقت چھڑی سے پیٹا جاتا رہے گا مگر گاجر کبھی نہ ملے گی چاہے کچھ بھی کر لیں۔”ڈومور”،” ڈومور” کی رٹ لگتی ہی رہے گی۔ اگر کبھی عارضی مصلحت کے تحت ہمیں 15 ووٹ دلواکر گرے لسٹ سے نکال بھی دیا گیا تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پھر کوئی پلوامہ جیسا واقعہ بھارت کروا کر ہمیں دوبارہ گرے لسٹ میں نہیں ڈلوائے گا؟ پہلے بھی تو ہندوستان نے پلوامہ واقعہ کا کوئی ثبوت دیئے بغیر ہم کوگرے لسٹ میں ڈلوا دیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ آج تک ہندوستان کے صرف کہنے پر ہی ہم گرے لسٹ میں رہے ہیں جبکہ ثبوت آج تک ندارد۔
وقت آگیا ہے کہ ہم حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے ایک بالکل مختلف لائحہ عمل اختیار کریں۔ کشمیر کے حوالے سے پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں اور شملہ معاہدے کوناقابلِ عمل ہو نے کیلئے قرارداد منظور کریں۔ دنیا کو بتائیں کہ چونکہ ہندوستان نے شملہ معاہدے کی ہر شق کی خلاف ورزی کرلی ہے لہذا ہم بھی جنیواکنویشن کے آرٹیکل 56اور60 کے تحت اس کے مزید پابند نہیں ہیں۔جیسے ہی ہم شملہ معاہدے کوناقابلِ عمل ہونےکا باضابطہ اعلان کریں گے، گیند اقوام متحدہ کی کورٹ میں چلی جائے گی۔ اقوام متحدہ کو تحریری طور پر اپنی قراردادوں پر عمل کرنے کے لیے لکھا جائے، جس میں باقاعدہ وقت دیا جائے۔کہا جائے کہ اگر معینہ مدت تک معاملات حل نہ ہو سکے یا کشمیریوں کو ان کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دیا گیا حق خودارادیت پر عمل نہ ہوسکا تو ہم انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بھی یہی کیا جانا چاہئے کہ اس "دکھتی رگ” پر سردمہری کی دبیزپٹی باندھ دی جائے۔ مزید اس کے لیے اپنی توانائیاں ضائع نہ کی جائیں۔ جتنی ایف اے ٹی ایف کو اہمیت دیں گے اتنا ہی دبائے جائیں گے۔ تمام حکومتی اراکین، اپوزیشن، میڈیا، اربابِ اختیار اور فراست رکھنے والے حضرات اس موضوع پر باقاعدہ بات کرنا بند کر دیں۔ بعینی ایسے ہی جیسے ہندوستان میں جب مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کی اور دنیا سے رابطہ منقطع کئے جانے کی بات کی جاتی ہے تو وہ بات گھما کر کسی اور جانب لے جاتے ہیں۔پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہیںیا پھر آزاد کشمیر کا رونا روتے ہیں۔ہماری عوام کو اور ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ حق کی خاطر، اپنے مقصد کے حصول کی خاطر، کشمیر کی حصول کی خاطر، ایثار اور قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔جب قیادت، قوم اور قوم کی جذبات ایک صفحے پر آگئے تو انشاءاللہ جلد یا بدیر کامیابی ہماری ہی ہوگی۔
کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں لا الہ الا اﷲ
بشکریہ:جنگ



