
ٹک ٹاک گرل ایف آئی اے کی جانب سے ہراساں کئے جانے کے خلاف فریاد لے کر عدالت پہنچ گئیں۔دائر کی گئی درخواست میں صندل خٹک نے عدالت سے استدعا کی کہ ایف آئی اے کو ان کے خلاف جاری تحقیقات سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ٹک ٹاک اسٹار کی درخواست پر عدالت نے ایف آئی اے سے جواب طلب کیا تھا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نے 20 جنوری 2020 کی ہی عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا تھا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ٹک ٹاک اسٹار صندل خٹک کو مبشر لقمان کی درخواست میں لگائے گئے الزامات پر صفائی اور جواب کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ایف آئی اے نے اپنے جواب میں وضاحت کی تھی کہ اینکر مبشر لقمان نے صندل خٹک کے خلاف انکوائری کے لیے درخواست دی تھی۔
ایف آئی اے کے مطابق مبشر لقمان نے اپنی درخواست میں بتایا تھا کہ صندل خٹک نے سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز اپلوڈ کی تھیں۔
ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ مبشر لقمان نے ایف آئی اے کو درخواست دے کر صندل خٹک کے خلاف انکوائری کے استدعا کی تھی، ساتھ ہی عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ ٹک ٹاک اسٹار کی دائر درخواست کو مسترد کیا جائے۔
ایف آئی اے کے جواب کے بعد عدالت نے صندل خٹک سے جواب طلب کیا تھا اور 25 فروری کو ٹک ٹاک اسٹار کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت صندل خٹک کے وکلا نے عدالت میں ٹک ٹاک اسٹار کا جواب جمع کرایا جس میں ماڈل نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ وہ کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہیں۔انہوں نے اپنے جواب میں لکھا کہ وہ مختلص پاکستانی شہری اور ٹک ٹاک اسٹار ہیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ انہیں بار بار پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر رہا ہے۔

صندل خٹک کے وکلا نے ماڈل کا جواب جمع کراتے ہوئے اس پر بحث کے لیے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے ماڈل کے وکلا کو پوری تیاری کے ساتھ آئندہ ماہ 11 مارچ کو طلب کرلیا۔خیال رہے کہ صندل خٹک ساتھی ماڈل حریم شاہ کے ساتھ متنازع ویڈیوز بنانے کے حوالے سے ملک بھر میں شہرت رکھتی ہیں۔




