صوبوں میں سی پیک کے تحت 10 خصوصی صنعتی بستیاں قائم کرنے کی منظوری،علاقوں کا تعین کرلیا گیا

CPEC.gif

اسلام آباد: صوبوں میں سی پیک کے تحت 10 خصوصی صنعتی بستیاں قائم کرنے کی منظوری دیدی گئی، علاقوں کا تعین کرلیا گیا،وزیرِ اعظم نے سی پیک کے تحت  خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کے قیام  سہولت کاری کے متعلقہ قوانین اور ضابطہ کار کو آسان بنانے کے لئے وزیرِ منصوبہ بندی، وزیرِ توانائی، مشیر تجارت، و دیگر شراکت داروں  پر مشتمل ورکنگ گروپ کے قیام کی ہدایت کردی ہے ،

ورکنگ گروپ خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے اپنی سفارشات  وزیرِ اعظم کو پیش کرے گا،  اقتصادی زونز میں سہولتوں اور مراعات میں اضافے کے حوالے سے متعلقہ قانون میں ترامیم کا کام  تقریبا مکمل کر لیا گیا ہے،خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے تمام معاملات صوبائی حکومتوں کی سطح پر حل   کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے خصوصی اقتصادی زونز میں قائم  صنعتوں  کو   بجلی کی ترسیل کے حوالے سے  اہم  فیصلہ  بھی کیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت  ملک کے مختلف   حصوں میں نئے  خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے حوالے سے اعلی سطح کا  اجلاس ہوا۔خصوصی اقتصادی  زونز کے قیام کے حوالے سے  متعلقہ بورڈ (بورڈ آف اپروول  )کایہ پانچواں اجلاس تھا۔

اجلاس میں  قائد ایوان سینٹ شبلی فراز، وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داد، وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا محمود خان، وزیرِ اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ زبیر گیلانی، وزیر خزانہ خیبر پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا، صوبائی وزیر صنعت پنجاب میاں محمد اسلم اورمتعلقہ  وفاقی و صوبائی محکموں کے سینئر افسران شریک ہوئے ۔اجلاس میں بلوچستان، صوبہ سندھ، صوبہ خیبر پختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں مختلف خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کی منظوری دی گئی ہے ۔ بلوچستان میں بوستان خصوصی اقتصادی زون اور حب اقتصادی زون، صوبہ خیبر پختونخواکے رشاکئی  خصوصی اقتصادی زون  صوبہ سندھ میں نوشہرو فیروز  اور بھولاری خصوصی اقتصادی زونز اسی طرح  صوبہ پنجاب میں بھلوال، بہاولپور، رحیم یار خان، وہاڑی اور علامہ اقبال خصوصی اقتصادی زونز کی منظوری دی گئی ہے ۔سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ نے اجلاس کو بتایا گیا کہ اب  تک تیرہ خصوصی اقتصادی زونز نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں جبکہ  پبلک سیکٹر میں مزید بارہ جبکہ پرائیوٹ سیکٹر میں چھ نئے زونز کے قیام پر کام جاری ہے ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ  2012 میں خصوصی اقتصادی زونز کے قانون کے بعد  2018 تک محض سات زونز کا قیام عمل میں آیا ۔ موجودہ حکومت کے دورِ حکومت میں گذشتہ ایک سال میں چھ نئے زونز  کو نوٹیفائی کیا گیا۔ موجودہ حکومت کے دور میں  اقتصادی زونز میں سہولتوں اور مراعات میں اضافے کے حوالے سے متعلقہ قانون میں ترامیم کا کام  تقریبا مکمل کر لیا گیا ہے ۔ اجلاس  میں صوبہ بلوچستان، صوبہ سندھ ، خیبر پختونخواہ اور صوبہ پنجاب میں قائم ہونے والے خصوصی اقتصادی  زونز سے متعلقہ معلومات  ،محل و قوع، رقبہ، قائم ہونے والی صنعتیں وغیرہ پر تفصیلی بریفنگ د ی گئی ۔وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا مقصد سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا اور ان کو مراعات دینا ہے۔موجودہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکنہ سہولت اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے تمام معاملات صوبائی حکومتوں کی سطح پر حل   کیے جائیں گے۔

خصوصی اقتصادی زونز میں قائم ہونے والی صنعتوں  کو توانائی کی پیداوار کے حوالے سے کیپٹیو پاور  اور  بجلی کی ترسیل کے حوالے سے  ویلنگ کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ  کیپٹیو  پاور اور ویلنگ کے حوالے سے نظام کو سہل اور آسان بنایا جائے   اور اس عمل کے لئے منظوریوں کی مدت کا تعین کیا جائے۔ وزیرِ اعظم کی خصوصی اقتصادی زونز میں صنعتوں کے قیام اور انکی سہولت کاری کے لیے متعلقہ قوانین اور قواعد وضوابط کو آسان بنانے کے لئے وزیرِ منصوبہ بندی، وزیرِ توانائی، مشیر تجارت، و دیگر متعلقین پر مشتمل ورکنگ گروپ کے قیام کی ہدایت کردی ہے ۔ ورکنگ گروپ خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے اپنی سفارشات  وزیرِ اعظم کو پیش کرے گا۔   وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے اکنامک گروتھ اسٹریٹیجی مرتب کرنے کا کام جاری ہے جس میں صنعتی شعبے کی ترقی بھی شامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے گلگت بلتستان  میں سیاحت کے پوٹینشل کو برے کار لانے اور سیاحت کے حوالے سے خصوصی زونز کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔