
لاہور کی احتساب عدالت نے اراضی اسیکنڈل میں جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کا 12روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا صوبائی دارالحکومت کی احتساب عدالت میں جج امیر محمد خان نے نیب کی جانب سے 54 کینال اراضی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے پیش کیا گیا.
سماعت کے دوران میر شکیل الرحمان کی جانب سے سینئر وکیل اعتزاز احسن پیش ہوئے جبکہ نیب کی نمائندگی پراسکیوٹر خافظ اسد اعوان نے کی مقدمے کی سماعت کے آغاز پر اعتزاز احسن نے میر شکیل الرحمان سے ملاقات کی اجازت طلب کی اور کہا کہ ابھی وکالت نامے پر دستخط کیے ہیں مجھے میرے موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے. جس پر عدالت نے انہیں اجازت دیتے ہوئے سماعت کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کیا تاہم وقفے کے بعد جب سماعت شروع ہوئی تو اعتزاز احسن نے موقف اختیار کیا کہ میر شکیل بھاگے نہیں وہ نیب کے سامنے پیش ہوئے جب میر شکیل نیب سے تعاون کر رہے تھے تو پھر کیوں گرفتار کیا گیا.
اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل نے ایل ڈی اے سے زمین نہیں خریدی، زمین کسی نجی بندے سے قانون کے مطابق خریدی، زمین میں کس بھی قسم کی دو نمبری نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میرے موکل کا نام میر شکیل الرحمان ہے اور وہ حکومت پر تنقید کرتے ہیں اس وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا ان کو کسی نہ کسی حکومت نے گرفتار تو کرنا تھا. اعتزاز احسن نے کہا کہ جب بھی نیب نے بلایا تو میر شکیل پیش ہوئے اور دوسری پیشی پر ہی گرفتار کرلیاسماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ میر شکیل کہیں نہیں بھاگ رہے لیکن نیب نے ملزم کا موقف نہیں سنا اور گرفتار کر لیا، شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے اس طرح گرفتار کیا تھا.
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میر شکیل نیب کے سوالوں کے جوابات لے کر گئے تھے، تاہم انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا اعتزاز احسن نے کہا کہ جب چیئرمین نیب نے میر شکیل کے کیس کی فائل دیکھی ہی نہیں تو وارنٹ کیسے جاری کر دیے، اس پر نیب کے وکیل نے موقف اپنایا کہ میر شکیل الرحمان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے.انہوں نے کہا کہ نیب کا میر شکیل الرحمان سے رویہ بدنیتی پر مبنی ہے، نیب کو میر شکیل الرحمان کا جسمانی ریمانڈ نہیں ملنا چاہیے نہ ہی ان کا جوڈیشل ریمانڈ بھی نہیں ہونا چاہیے.اعتزاز احسن نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کو اس مقدمے سے خارج کرکے رہا کیا جائے. تاہم عدالت نے میر شکیل کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے میر شکیل الرحمان سے ہونے والی تفتیش سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا. اسی دوران اعتزاز احسن کی جانب سے سماعت کی تاریخ تبدیل کرنے کی درخواست کی گئی جس پر عدالت نے اسے منظور کرتے ہوئے 25 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا.
یاد رہے کہ گزشتہ روزنیب کے حکام نے میر شکیل الرحمان کو طلب کیا اور دو گھنٹے تفتیش کے بعد انھیں گرفتار کرلیا گیاقومی احتساب بیورو کی طرف سے جس مقدمے میں میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا ہے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا تھا کہ 1986 میں لاہور کے علاقے جوہر ٹاﺅن فیز2کے ایچ بلاک میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 180 کنال اراضی پر استثنیٰ قرار دیتے ہوئے اسے ہدایت علی اور حاکم علی کے نام الاٹ کیا تھا جبکہ اس کی پاور آف اٹارنی میر شکیل الرحمان کے پاس تھی.
نیب کی طرف سے جاری کیے بیان میں کہا گیا ہے کہ 1986 میں اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف نے استثنیٰ کے قواعد کو تبدیل کرتے ہوئے 55 کنال پانچ مرلے اراضی ہدایت علی اور حاکم علی کے نام کردی جس کی اٹارنی میر شکیل الرحمان کے پاس تھی نیب کے مطابق یہ دونوں افراد میرشکیل الرحمان کے فرنٹ مین تھے. اس بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کسی بھی سرکاری ہاﺅسنگ سکیم میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوتی ہے لیکن اس میں قرعہ اندازی نہیں کروائی گئی اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میر شکیل الرحمان کو مختلف مقامات پر تین پلاٹ الاٹ کیے گئے جن میں 33 کنال کا پلاٹ کنال بینک روڈ پر،124 کنال کا پلاٹ سوک سینٹر کے پاس جبکہ 33کنال کا پلاٹ سوک سنٹر سے دور آلاٹ کیا گیا نیب کے حکام نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ اگر ان 55 پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں قرعہ اندازی کروائی جاتی تو ہر ایک الاٹی کو ایک ایک کنال کا ایک پلاٹ مل جاتا.
دوسری جانب جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں.



