
قومی احتساب بیورو (نیب) نے اراضی الاٹمنٹ کیس میں گرفتار جیو اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اپنے بھائی میر جاوید الرحمٰن کی عیادت کے لیے کراچی جانے کی اجازت دے دی۔
اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمٰن کو ’انسانی ہمدری کی بنیاد‘ پر ان کے شدید علیل بھائی سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔
میر جاوید الرحمٰن پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہیں اور انہیں طبیعت خراب ہونے پر نجی اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا ہے
نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ میر شکیل الرحمٰن اپنے بھائی کی عیادت کے لیے ایک یوم کے لیے کراچی جاسکتے ہیں لیکن اس دوران وہ بدستور نیب کی زیر حراست رہیں گے۔ساتھ ہیں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ریمانڈ کے دوران ضمانت پر رہا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے۔
12 مارچ کو احتساب کے قومی ادارے نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کو اراضی سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔ترجمان نیب نوازش علی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ادارے نے 54 پلاٹوں کی خریداری سے متعلق کیس میں میر شکیل الرحمٰن کو لاہور میں گرفتار کیا۔
نیب کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 1986 میں غیر قانونی طور پر یہ زمین میر شکیل الرحمٰن کو لیز پر دی تھی۔
واضح رہے کہ میر شکیل الرحمٰن کو 28 فروری کو طلبی سے متعلق جاری ہونے والے نوٹس کے مطابق انہیں 1986 میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز شریف کی جانب سے غیر قانونی طور پر جوہر ٹاؤن فیز 2 کے بلاک ایچ میں الاٹ کی گئی زمین سے متعلق بیان ریکارڈ کرانے کے لیے 5 مارچ کو نیب میں طلب کیا گیا تھا۔
دوسری جانب جنگ گروپ کے ترجمان کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے، جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔
بعد ازاں گرفتاری کے اگلے ہی روز نیب نے انہیں احتساب عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا جس میں 25 مارچ کو ہونے والی پیشی پر 13 روز کی توسیع کی گئی تھی۔



