آٹا اور چینی سکینڈل کے بعد پاور سیکٹر سکینڈل کی رپورٹ بھی وزیراعظم کو پیش،قومی خزانے کو سالانہ 100 ارب نقصان کا انکشاف

 

آٹا اور چینی سکینڈل کے بعد پاور سیکٹر سکینڈل کی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی، انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر میں سالانہ 100ارب روپے کا نقصان قومی خزانے کو پہنچایا گیا۔ ہفتہ کو چینی اور آٹا سکینڈل کے بعد پاور سیکٹر سکینڈل کی انکوائری رپورٹ بھی وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی گئی، پاکستان کی ملکی تاریخ میں پہلی بار پاور سیکٹر کے حوالے سے انکوائری رپورٹ پیش کی گئی ہے، رپورٹ 278صفحات پر مشتمل ہے جسے 9رکنی انکوائری کمیٹی نے تیار کیا ہے، وزیراعظم کو پاور سیکٹر انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاور سیکٹر کی جانب سے قومی خزانے کو سالانہ 100ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا ہے، انکوائری کمیٹی نے پاور پلانٹس کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کو غیر منصفانہ قرار دیا اور ٹیرف، فیول کھپت میں خردبرد، ڈالرز میں گارنٹڈ منافع خزانے کو نقصان پہننچانے کی وجہ قرار پائی، پلاور انکوائری رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 1994کے بعد آئی پی پیز کے مالکان نے 350ارب روپے غیر منصفانہ طور پر وصول کئے، 15فیصد منافع حاصل کرنے کے برعکس پاور سالانہ 50تا70فیصد منافع کمانے میں ملوث ہیں، ہر پاور پلانٹ کی قیمت میں 2 سے 15ارب روپے اضافی ظاہر کر کے نیپرا سے بھاری ٹیرف لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق صرف کول پاور پلانٹس کی لاگت 30ارب روپے اضافی ظاہر کی گئی، کمیٹی نے آئی پی پیز مالکان کے ساتھ”ٹیک اورپے”کی بنیاد پر پیمنٹ کا فارمولا ختم کرنے کی سفارش بھی کی ہے اور 100ارب کی ریکوری کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔