
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسی کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے کئی سوال اٹھا دئیے فروغ نسیم ان سوالوں کا جواب دینے کی بجائے درخواست گزار کے کردار،ایسسٹس ریکوری یونٹ کے آئینی اختیار اوروفاقی حکومت کی معاملہ میں دلچسپی جیسے بے تکے سوالات میں الجھے رہے۔
سماعت شروع ہوئی تو وفاقی حکومت کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دستاب ریکارڈ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی کے بچے 2004میں جب لندن میں پہلی جائیداد خریدی گئی تو نابالغ تھے،2014میں خرید کی جانے والی جائیداد کے موقع پر بھی جسٹس فائز عیسی کے بچے تھوڑا عرصہ قبل تعلیم سے فارغ ہوئے تھے،ایک ایسا بچہ جو نابالغ ہے یا جو ابھی تعلیم مکمل کر کے نکلا ہے،دستیاب ریکارڈ کے مطابق جسٹس فائز عیسی کے بچوں نے کسی بنک یا سرکاری ادارے سے قرضہ بھی نہیں لیا ،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بچے نابالغ تھے اور جائیدادیں ان کے نام پر اربوں روپے کی بنائی گئیں تو ان کے پیچھے سرمایہ لگانے والا کون تھا ،کیاان سارے اخراجات کی ذمہ داری ان کے والد پر نہیں عائد ہوتی ،جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں 1995میں رجسٹرڈ ہوئیں،جو چند ہزاروں میں ٹیکس دیتی رہیں ،سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ آنے کے بعد بھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جائیدادوں کے بارے میں لگائے گئے الزمات کی کوئی تردید بھی نہیں کی گئی، یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ جائیدادیں کب، کیسے اور کیوں خریدی گئیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی اپنی اہلیہ اور بچوں کی جائیدادوں کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا،بیرون ملک میں یہ تمام جائیدادیں منی لانڈرنگ کرکے خریدی گئیں، وفاقی حکومت کا مطالبہ تھا کہ اگر پیسہ قانونی طریقے سے بھی گیا ہے تو اس کا کوئی ریکارڈ فراہم کیا جائے،عدالتی سوالات کا جوابات دینے سے قبل چند حقائق عدالت کے سامنے رکھوں گا،10 اپریل 2019 کو وحید ڈوگر نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو شکایت بھیجی،8 مئی کو وحید ڈوگر نے لندن پراپرٹیز کے حوالے سے اے آر یو کو خط لکھا ،وحید ڈوگر نے خط میں لندن پراپرٹیز کی قیمت خرید اور مارکیٹ ویلیو کے بارے میں بتایا،1988 کے بعد برطانیہ میں ہر پراپرٹی کا ریکارڈ اوپن ہے، اے آر یو کو قانون کی سپورٹ حاصل ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف انکوائری کے لیے صدرِ مملکت کی اجازت درکار نہیں تھی،وفاقی حکومت کے رولز آف بزنس اے آر یونٹ کو انکوائری کی اجازت دیتے ہیں،پہلی پراپرٹی 2004 میں خریدی گئی، 2011 میں بیٹی کا نام جائیداد میں شامل کیا، جوڈیشل کونسل نے ریفرنس دائر ہونے پر معزز جج کو نوٹس جاری نہیں کیا ،جوڈیشل کونسل نے پہلے اٹارنی جنرل کا موقف سنا ، پھر جسٹس قاضی فائز سے جواب مانگا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ابتدائی جواب میں پراپرٹی سے انکار نہیں کیا،جوڈیشل کونسل 12 جولائی 2019 کو جج صاحب کو شوکاز نوٹس جاری کیا، جسٹس قاضی فائز عیسی بنک ٹرنزیکشنز کا ریکارڈ دکھا دیں،میرا ایک لائن کا جواب ہے کہ منی لانڈرنگ سنگین جرم ہے، دوسرے جج نے تو دھرنا فیصلہ نہیں دیا حکومت نے انکے خلاف بھی ریفرنس فائل کیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے زرعی زمین پر ایگری کلچرل ٹیکس دینے کا ریکارڈ نہیں دیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے الزامات کا جواب دینے کے بجائے آزاد عدلیہ کے پیچھے چھپنے کا سہارا لیا، ،جج کے بچے ٹیکس ایمنسٹی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے ، جوڈیشل کونسل کے سامنے جج کا مقدمہ ہے ،بھارت میں جج کے اہلیہ بچوں کے نام اثاثے تھے،تحقیقات شروع ہوئیں تو بھارت کے اس جج نے استعفیٰ دے دیا،ججز کے ایک سال کے رد عمل میں بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ صحافی نے کہا میں اپنا زریعہ نہیں بتاؤں گا، سپریم کورٹ کے تین فیصلوں میں اصول طے ہے معلومات دینے والے کی ساکھ کو جانچنا ضروری نہیں۔جسٹس عمر عطاء بنیدال نے دوران سماعت اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ انفارمیشن درست ہے تو بھی ریفرنس دائر کرنے میں کوتاہیاں ضرور ہیں ،وفاق کا پورا مقدمہ بیرون ملک جائیداد کو ظاہر نہ کرنے سے متعلق ہے،قانون میں ملکی و غیر ملکی جائیداد کو ظاہر نہ کرنے پر انکم ٹیکس قانون کا اطلاق ہوتا ہے،پورے مقدمے میں وفاق نے جسٹس قاضی فائز عیسی پر کہیں بھی کرپشن کا الزام نہیں لگایا،صدارتی ریفرنس میں کہیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر کرپشن کا کسی نے بھی الزام نہیں لگایا،کیا انکم ٹیکس قانون کے علاوہ کوئی اور قانون بھی ہے جس کا نفاز ہوسکے ،یہ جائیدادیں جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے نام ہیں،ان جائیدادوں کو چھپایا نہیں گیا بلکہ یہ سب کے سامنے ہیں، ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ٹرسٹ بناکر جائیدادوں کے اصل مالک کو چھپایا جاتا ہے،آف شور کمپنیز اور ٹرسٹ سے متعلق کیس سننے والے بینچ کا میں حصہ تھا، ٹرسٹ اور آف شور کمپنیاں اثاثوں کو چھپانے کے لئے بنائے جاتے ہیں، مذکورہ کیس میں نہ کوئی آف شور کمپنی ہے نہ ہی ٹرسٹ بلکہ اصل مالک سب کے سامنے ہے،قانون بہت واضح ہے اور یہ جج کو تحفظ فراہم کرتا ہے،ٹیکس ریٹرن ظاہر نہ کرنے پر جج پر آرٹیکل 209 لاگو نہیں ہوتا ہے،آپ کا سارا کیس جج کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق ہے، آپ ابھی تک ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت نہیں کرسکے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر کرپشن یا اختیارات کے غلط استعمال کا کوئی الزام نہیں،ججز پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے اسی لیے قانون میں ججز کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے،منی لانڈرنگ فوجداری جرم ہے، جو پیسہ برون ملک قانونی طریقے سے جائے وہ منی لانڈرنگ نہیں ہوسکتی، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹیکس قانون کی پیروی نہیں کی گئی، آرٹیکل 209 عدلیہ کو تحفظ فراہم کرتا ہے، ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ غیر ملکی جائداد کو ٹرسٹ کے ذریعے چھپایا گیا،اگر پیسے بینکوں کے ذریعے گیا ہے تو منی لانڈرنگ کی تعریف کیا ہوگی، کیا ایف بی آر کے غیر ملکی جائیداد ظاہر کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے ،کیا پاکستان کے قانون میں جج پر جائیداد ظاہر کرنے کی پابندی نہیں ہے، بھارت کے قانون کو چھوڑیں پاکستان کے قانون کی بات کریں،ایمنسٹی اسکیم کا حوالہ دلائل میں کیوں دیا گیا،قانون دکھا دیں جس کے تحت جج کو اپنی اور خاندان کے افراد کی جائیداد ظاہر کرنا ضروری ہے،قانون کے تحت جج کیلئے ایسی پابندی نہیں کہ وہ غیر ملکی جائیداد ظاہر کرے،کسی کے خلاف مناسب مواد کی موجودگی کو قانون سے ثابت کرنا ہوتا ہے، ریفرنس کی بدنیتی اور اے آر یو کی قانونی حیثیت پر سوالات پوچھے گئے ہیں، اگر صدارتی ریفرنس میں نقص ہیں تو کونسل سوموٹو کاروائی کر سکتی یے، کیا جوڈیشل کونسل صدارتی ریفرنس پر کاروائی کی پابند ہے،فرض کر لیں یہ ایک کمزور ریفرنس ہے، جس کے پس پردہ مقاصد ہیں، کیا کونسل ایسے ریفرنس پر کاروائی کرنے کی پابند ہے،کیا کونسل ریفرنس میں کمی کوتاہی نظر انداز کر کے کاروائی کر سکتی ہے۔جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بیوی، بچوں کے اثاثوں سے متعلق سربراہ سے سوال کے قانون کا نظریہ مختصر ہے،شکایت کنندہ وحید ڈوگر کی معلومات لی گئیں،جس شخص کو عیسیٰ کے انگریزی کے ہجے تک معلوم نہیں اسے معلومات کیسے ملیں، وحید ڈوگر کو تو انگریزی میں عیسیٰ کے ہجے نہیں معلوم، وحید ڈوگر کو جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کا مختصر نام کیسے معلوم ہوا،کیا پوری حکومتی مشینری کو حرکت میں لانے سے قبل وحید ڈوگر کی جانچ کی گئی، کیا یہ دیکھا گیا وحید ڈوگر کس کے لیے کس ادارے میں کام کرتا رہا،آپ نے پوری ریاستی مشینری حرکت میں لائی لیکن
پھر بھی آپ کو کچھ نہیں ملا،کیا وحید ڈوگر کے کوائف کا جائزہ لینا ضروری نہیں تھا، صدر مملکت نے ریفرنس کے حوالے سے معلومات خود حاصل نہیں کی،انکم ٹیکس کا نوٹس جج کی اہلیہ کو جاری کیا گیا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا قانون کے تحت جج صاحب منی ٹریل دینے کے پابند ہیں،فروغ نسیم صاحب آپ سوال پر آتے نہیں اور قانون بھی نہیں دکھا رہے ہیں،جج کہتا ہے کہ پراپرٹیز کا مجھ سے نہیں متعلقہ لوگوں سے پوچھیں،آپ کہتے ہیں کہ جواب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دے،اس مقدمے سے ایمنسٹی کا تعلق کیا ہے،کیا جج نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے ،اے آر یو نے کتنی عوامی شکایات پر عوامی عہدہ رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کی ہے،۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم سے کہا کہ و ہ آئندہ ایک دن تک اپنے دلائل مکمل کر لیں ۔جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ وہ وثوق سے نہیںکہہ سکتے کہ وہ ایک دن میں اپنے دلائل مکمل کر لیںگے،تا ہم وہ کوشش کریںگے کہ وہ جلد از جلد اپنے دلائل مکمل کریں ۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر معاملہ کی سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کر دی ۔



