
محمد عارف شاہین
اسلام آباد ۔ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے ) مین بھرتیوں کے معاملہ پر ہونے والی انکوائری پر مزید کام کے آغاز سے قبل ہی اس میں کئی نقائص سامنے آ گئے۔ ممبر ایڈمن نے نا اہلی کا ثبوت دیتے ہوئے جونیئر افسران سے اعلی افسران کے خلاف انکوائری کروا دی۔اور اسی کی بنا پر سابق چےئر مینوں ممبروں اور دیگر اعلی افسران کے خلاف ممبر ایڈمن یاسر پیر زادہ نے ایف آئی اے سے سمن جاری کرو دا دیئے۔ تفصیلات کے مطابق سابق دور میں سی ڈی اے میں سینکڑوں کے حساب سے بھرتیاں کی گےئیں ، جن میں افسران بھی تھے۔ سی ڈی اے نے ان میں ہی بعض افسران کو براہ راست ریگولر بھرتی کیا گیا ۔ پیپلز پارٹی حکومت کے جانے کے بعد نواز شریف حکومت نے پنجاب میں بڑی تعداد میں ملازمین کو ریگولر کیا۔تاہم سی ڈی اے میں ایک انکوائری شروع کر دی گئی ۔ اس انکوائری کے لئے ایف آئی اے نے ایک لیٹر لکھا تھا جس میں واضح طور پر لکھا تھا 2012 تک ریگولر بھرتی ہونے والے افسران اس میں شامل ہوں گے۔ جس کے زمرے میں ایچ آر ڈی میں تعینات ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارشد آفریدی آتا تھا جو اسی عرصہ میں ریگولر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اسوقت ایچ آر ڈی میں ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری نذیر تعنات تھا جس نے خلاف ضابطہ اپنا کیڈر تبدیل کیا تھا ۔ ان دونوں نے مل کر اور اپنے آپ کو بچانے کیلئے انکوائری کا رخ موڑ دیا۔ اور یہ انکوائری ریگولر کی بجائے ڈیلی ویجز ملازمین کی طرف موڑ دی۔ بعد ازان ان لینڈ ریونیو سروس کے افسر یاسر پی زادی کے دست راست بن کر بیٹھ گئے۔ یاسر پیر زادہ کے دور میں کیڈر تبدیل کرنے والے تمام افسران اپنے محکموں مین واپس چلے گئے مگر چوہدری نذیر کو آج بھی ایسی جگہ تعنات کیا گیا ہے جہاں روزانہ کروڑوں کے پلاٹ ترانسفر ہو تے ہین جبکہ ارشد آفریدی آج بھی ایچ آر ڈی میں تعینات ہے۔ ڈیلی ویجز ملازمین کو نکالنے کا مشن لے کر آنے والا ممبر ایڈمن یاسر پیر زادہ نے ان مفاد پرست عناصر کے کہنے پر ایسی انکوائری شروع کروا دی جو تکنیکی طور پر کسی طرح بھی درست نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ممبر ایڈمن نے گریڈ بائیس، گریڈ اکیس، اور گریڈ پیس کے افسران کے خلاف انکوائری گریڈ اٹھارہ کے تین افسران سے کروا دی۔ جو ایسٹا کوڈ کی خلاف ورزی ہے۔ انکوائری کروانے کے بعد اس کو ایف آئی اے میں بھجوا دیا گیا ہے ۔ جہاں سے ان اعلی افسران کے خلاف سمن جاری ہو گئے ہیں بتایا گیا ہے کہ اس انکوایری میں تکنیکی خا میوں کے باعث اس کا آغاز ہی متنازعہ ہو گیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی ممبران رانا طاہر اور منان کو اپنے افس طلب کر کے ممبر ایڈمن نے پوری رپورٹ خود لکھوا ئی ہے۔
اسلام آباد ۔ وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے ) مین بھرتیوں کے معاملہ پر ہونے والی انکوائری پر مزید کام کے آغاز سے قبل ہی اس میں کئی نقائص سامنے آ گئے۔ ممبر ایڈمن نے نا اہلی کا ثبوت دیتے ہوئے جونیئر افسران سے اعلی افسران کے خلاف انکوائری کروا دی۔اور اسی کی بنا پر سابق چےئر مینوں ممبروں اور دیگر اعلی افسران کے خلاف ممبر ایڈمن یاسر پیر زادہ نے ایف آئی اے سے سمن جاری کرو دا دیئے۔ تفصیلات کے مطابق سابق دور میں سی ڈی اے میں سینکڑوں کے حساب سے بھرتیاں کی گےئیں ، جن میں افسران بھی تھے۔ سی ڈی اے نے ان میں ہی بعض افسران کو براہ راست ریگولر بھرتی کیا گیا ۔ پیپلز پارٹی حکومت کے جانے کے بعد نواز شریف حکومت نے پنجاب میں بڑی تعداد میں ملازمین کو ریگولر کیا۔تاہم سی ڈی اے میں ایک انکوائری شروع کر دی گئی ۔ اس انکوائری کے لئے ایف آئی اے نے ایک لیٹر لکھا تھا جس میں واضح طور پر لکھا تھا 2012 تک ریگولر بھرتی ہونے والے افسران اس میں شامل ہوں گے۔ جس کے زمرے میں ایچ آر ڈی میں تعینات ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارشد آفریدی آتا تھا جو اسی عرصہ میں ریگولر ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اسوقت ایچ آر ڈی میں ڈپٹی ڈائریکٹر چوہدری نذیر تعنات تھا جس نے خلاف ضابطہ اپنا کیڈر تبدیل کیا تھا ۔ ان دونوں نے مل کر اور اپنے آپ کو بچانے کیلئے انکوائری کا رخ موڑ دیا۔ اور یہ انکوائری ریگولر کی بجائے ڈیلی ویجز ملازمین کی طرف موڑ دی۔ بعد ازان ان لینڈ ریونیو سروس کے افسر یاسر پی زادی کے دست راست بن کر بیٹھ گئے۔ یاسر پیر زادہ کے دور میں کیڈر تبدیل کرنے والے تمام افسران اپنے محکموں مین واپس چلے گئے مگر چوہدری نذیر کو آج بھی ایسی جگہ تعنات کیا گیا ہے جہاں روزانہ کروڑوں کے پلاٹ ترانسفر ہو تے ہین جبکہ ارشد آفریدی آج بھی ایچ آر ڈی میں تعینات ہے۔ ڈیلی ویجز ملازمین کو نکالنے کا مشن لے کر آنے والا ممبر ایڈمن یاسر پیر زادہ نے ان مفاد پرست عناصر کے کہنے پر ایسی انکوائری شروع کروا دی جو تکنیکی طور پر کسی طرح بھی درست نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ممبر ایڈمن نے گریڈ بائیس، گریڈ اکیس، اور گریڈ پیس کے افسران کے خلاف انکوائری گریڈ اٹھارہ کے تین افسران سے کروا دی۔ جو ایسٹا کوڈ کی خلاف ورزی ہے۔ انکوائری کروانے کے بعد اس کو ایف آئی اے میں بھجوا دیا گیا ہے ۔ جہاں سے ان اعلی افسران کے خلاف سمن جاری ہو گئے ہیں بتایا گیا ہے کہ اس انکوایری میں تکنیکی خا میوں کے باعث اس کا آغاز ہی متنازعہ ہو گیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی ممبران رانا طاہر اور منان کو اپنے افس طلب کر کے ممبر ایڈمن نے پوری رپورٹ خود لکھوا ئی ہے۔



