
اسلام آباد: صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سید قلب حسن نے 18 ویںآئینی ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات میں وفاق کی مداخلت کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق ٹیکس کے حصول کی ریشو بڑھا کر اپنے ریسورسز میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے آئینی طور پر شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے فنڈز کی قلت کا رونا بھی نہیں رو سکتے۔ 1973ء کا آئین جس میں مختلف اقتدار اور ادوار میں من پسند تشریحات اور ترامیم کر لی گئی تھیں کو 18ویں آئینی ترمیم کی صورت میں بحال کیا جا چکا ہے۔ جس میں تمام فنڈریٹنگ یونٹس نے رضامندی ظاہر کی تھی اب اس وبائی دور میں وفاق اور صوبوں کا درمیان فنڈز کو لے کر رونا دھونا ضرور ہے کیونکہ آئین پاکستان شہریوں کو سروسز کی فراہمی کی ذمہ داری صوبوں کو دیتاہے۔ وفاق اس سلسلے میں اپنے ریسورسز بڑھا کر فنڈز کی قلت کے درپیش مسائل کا حل نکال سکتا ہے۔ سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے آئین رہتے ہوئے اپنے اختیارات کو استعمال کرکے ملک کو مضبوط اور قوم کی بہتر انداز میں خدمت کر سکتے ہیں۔



