موجودہ بجٹ تاجر و عوام دشمن غیر حقیقی بجٹ ہے کاشف چودھری

اسلام آباد : مر کزی تنظیم تا جران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے وفاقی بجٹ پر ملک بھر کی تاجر برادری کی طر ف سے شد ید تحفظا ت کا اظہار کر تے ہو ئے اسے غیر حقیقی اور تا جر و عوام دشمن بجٹ قرار دیتے ہو ئے کہاوفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس تو نہیں لگائے گئے مگر تاجر برادری کوعملا کوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا ،کرونا اور لاک ڈاو ¿ن سے متاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے تاجروں نے حکو متی بجٹ سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ بجٹ میں انقلابی اقدامات کے ذریعے معیشت کے پہیے کو چلایا جائے گامگر کورونا سے متاثرہ صنعت و تجارت کی بحالی کے عملی اقدامات کی بجائے غیر حقیقت پسندانہ ریونیو اہداف رکھ دیے گئے بجٹ میں صنعت و تجارت کی ترقی ،زراعت میں بڑھوتری کیلئے عملا کچھ نہیں کیا گیاحالانکہ معیشت کے رکے ہوئے پہیے کو چلانے کیلئے تعمیراتی شعبے کی طرز پر سرمایہ کاری کی تمام کاروباروں کیلئے اجازت بجٹ کا حصہ ہونا چاہیے تھی۔ انھوں نے کہا بجٹ اقدامات سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی تجارت و زراعت ترجیحات میں شامل نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی جامع پالیسی سامنے آئی ہے۔اسی طرح بنکوں سے نقد رقوم نکلوانے پر وودھولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے مگر اس کو بھی صرف نظر کیا گیا ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پر یس کانفر نس کر تے ہو ئے کیا ۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان عبدالستار قریشی ، صلاح الدین غازی ،ضیاءاحمد راجہ ،جاوید اعوان ،خلیل احمد قریشی اور دیگر تاجر رہنماءبھی اُن کے ہمراہ تھے ۔
محمد کاشف چوہدری نے کہا وفاقی بجٹ میں صنعتوں کی بحالی و قیام کیلئے حکومت کو شرح سود ختم کرنا یا اسے فی الحال مزید کم کر کے 4% پر لانا چاہیے تھا اور چھوٹے تاجروں کو بلاسود کاروبار کی ضمانت پر 5 لاکھ تا 5 کروڑ کے قرضے بجٹ دستاویز کا حصہ بنانا چاہیے تھا۔ ٹیکسز میں کمی کرتے ہوئے بجٹ میں سیلز ٹیکس کو 17%سترہ فیصد سے سنگل ڈیجٹ9 فیصد پر لایا جانا چاہیے تھا اور آٹے ،چینی و اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے ان پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ بھی بجٹ میں شامل نہیں تو عام آدمی کو کیسے ریلیف ملے گا اسی طرح خطے میں سب سے زیادہ انکم ٹیکس ریٹس کو کم کرنے ،وود ھولڈنگ ٹیکس کے مکمل خاتمے و دیگر تمام ٹیکسز کی شرح کو کم ازکم پچاس فیصد کم کرنے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ انھوں نے کہا کاٹیج انڈسٹری گھریلو صنعت کو سیلز ٹیکس سے استشنی اور خصوصی مراعات بھی بجٹ دستا ویز میں شامل نہیں جبکہ جیولرز ،موبائل فونز ،آٹوز کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی بجائے موبائل پر ٹیکس بڑھا دیا گیا،پیداوری لاگت و اخراجات کم کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات، بجلی ،گیس کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی طرف بھی نہیں سوچا گیا۔ محمد کاشف چوہدری نے کہا ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے زیرو ریٹڈ سیکٹر کو بحال نہیں کیا گیا،اسی طرح چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کے خدوخال واضح نہیں ،انکم ٹیکس آمدن کی حد چار لاکھ روپے سے بڑھا کر بارہ لاکھ روپے سالانہ مقرر نہیں کی گئی ڈسٹری بیوٹرز اور ہول سیلرز کا ٹرن اوور ٹیکس 0.25 فیصد ابھی تک واضح نہیں اسی طرح کرونا کے حالات میں پوائنٹ آف سیلز لگانے کی پالیسی پر نظرثانی اور سیلز ٹیکس میں لازمی رجسٹریشن کے قانون کا خاتمہ کی ضرورت ہے ،ریسٹورنٹس ،شادی ہال جو کہ تاحال بند ہیں انکے لیے اسپیشل پیکیج کی بجائے ٹیکس میں کچھ کمی مذاق کے مترادف ھے ،جبکہ آڑتھیوں کی سالانہ لائسنس فیسوں کو بجٹ میں ختم کرنے ،ادویات و دیگر چند صنعتوں اور متعدد اشیاءکے خام مال پر ٹیکسز میں چھوٹ ،موٹرسائیکل ،رکشہ پر ٹیکس میں کمی کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔
عبدالستار قریشی نے کہا کرونا کی وجہ سے تاجر دکانوں کے کرایہ جات ،ملازمین کی تنخواہیں دینے اور ذاتی اخراجات سمیت ،کاروباری کیش فلو کی کمی کا شکار ھے ،حکومت نے اگر تاجروں کی امداد نہ کی تو ھزاروں کاروبار بند اور لاکھوں لوگ بےروزگار ھو جائیں گے، گزشتہ تین ماہ سے ھوٹل ،ریسٹورنٹ ،شادی ھال ،مارکیاں ،جم ،بیوٹی پارلرزبند ھیں اور مزید کب تک بند رھیں گے کسی کو معلوم نہیں ھے ،یہ سب لوگ دیوالیہ ھو چکے مگر حکومت نے ان لاکھوں لوگوں کو بچانے کیلئے کسی پیکیج کا اعلان نہیں کیا ۔