پنجاب کی یونیورسٹیز میں با ترجمہ قرآن کلاسز کا اجرا خوش آئند ہے: تنظیم اساتذہ پاکستان *دیگر صوبوں کی جامعات میں بھی یہ سلسلہ شروع کیا جائے : ڈاکٹر میاں محمد اکرم

 

اسلام آباد :تنظیم اساتذہ پاکستان نے حکومت پنجاب کی جانب سے صوبے کی تمام سرکاری جامعات میں با ترجمہ قرآن کا مضمون لازمی قرار دینے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دیگر صوبوں کی جامعات میں بھی اس سلسلے کا آغاز کیا جائے۔تنظیم کے مرکزی صدر ڈاکٹر میاں محمد اکرم اور سیکریٹری جنرل حمیدالحق نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ خو ش آئند ہے اور اس سے طلباء کی صلاحیتوں میں مثبت اضافہ ہوگا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق قرآن کلاسز لئے بغیر کسی طالب علم کو ڈگری جاری نہیں کی جائے گی۔ تنظیم اساتذہ پاکستان کے قائدین نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی خوش آیند ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے گورنر پنجاب اور جامعات کے چانسلر چوہدری محمد سرور نے تمام وائس چانسلر ز سے وسیع تر مشاورت کی ہے۔گورنر پنجاب کا یہ طرز عمل اس فیصلہ کے عمل درآمد میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز اختر کی سربراہی میں قائم سات رکنی اعلی سطحی کمیٹی اس اہم فیصلہ پر عمل درآمد کی سفارشات جلد از جلد پیش کردے گی تاکہ اسی سال کے تعلیمی سیشن سے قرآن کلاسز کا اجرا ہوسکے۔ تنظیم نے گورنر پنجاب کو اس مبارک فیصلے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے اپیل کی ہے کہ صوبے کی پرائیویٹ یونیورسٹیز کو بھی اس فیصلہ پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے۔تنظیم کی مرکزی مجلس شوری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کی طرح دیگر صوبوں میں بھی قرآن کلاسز کے اجرا کے لئے خصوصی ہدایات جاری کی جائیں،اس سے صوبوں میں یکجہتی کا اظہار ہوگا۔