آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل نہ کرانے کی ذمہ داری وزیرتعلیم شفقت محمود پر ڈالتے ہوئے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد:آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے کورونا وبا کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرانے میں ناکامی اور لاکھوں طلبا کا مستقبل تباہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے استعفی کا مطالبہ کر دیا ۔ ملک بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو درپیش موجودہ سنگین صورتحال کے حوالے سے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کا آن لائن ہنگامی اجلاس ہوا جس کی صدارت مرکزی صدر ملک ابرار حسین نے کی۔اجلاس میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ناقص حکمت عملی کے باعث ملک بھر کے تقریبا بیس فیصد نجی تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں دس لاکھ اساتذہ کو بے روزگاری کے عفریت کا سامنا ہے۔ حکومت مناسب ایس او پیز کے تحت نجی تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت دے جبکہ کرایوں، تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں مناسب ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ اجلاس میں چاروں صوبائی عہدیداران سمیت معروف ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں ملک ابرار حسین کا کہنا تھا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے تمام تر دعوں کے برعکس ملکی تعلیمی نظام کو بہتر کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ کورونا وبا کے دوران بالخصوص نجی تعلیمی اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جس کے نتیجے میں بیس فیصد نجی سکولز بند ہو چکے ہیں جبکہ یہ تعداد پچاس فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ان کا کہنا تھا اس تمام تر صورتحال کے ذمہ دار وفاقی وزیر تعلیم ہیں جو اپنے منصب کی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وزیر اعظم ،نیشنل سیکورٹی کونسل سمیت متعلقہ فورمز پر ملکی تعلیمی اداروں کی نمائندگی کا حق ادا نہیں کر سکے ہیں اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شفقت محمود فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور کسی اہل شخص کو یہ ذمہ داری سونپی جائے۔ ملک ابرار حسین کا کہنا تھا کہ اساتذہ شدید متاثر ہوئے ہیں اس لیے ان کیلیے ٹیکس فری تعلیمی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے۔سکولوں کو اگست تک بند رکھنا غیر منطقی فیصلہ ہے،حکومت اجازت دے تو سکولز ٹائمنگ صبح 7 تا10 اور دو شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ حالات میں 50% نجی تعلیمی ادارے مکمل بنداور 10لاکھ ٹیچرز بے روزگار ہوسکتے ہیں۔2.5کروڑ پاکستانی بچے پہلے ہی تعلیم سے محروم ہیں ایسے میں مزید 5کروڑطلباکاتعلیمی نقصان کرتے ہوئے مجموعی طور پر ساڑھے سات کروڑطلبا کوتعلیمی حق سے محروم کردیاگیا ہے جن میں 50 فیصد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امیروں کے بچے گھر میں ٹیوشن رکھ کر پڑھ لیتے ہیں لیکن غریبوں کے بچے اپنے جائز حق سے محروم کر دیے گئے ہیں، آن لائن تعلیم اورتعلیم گھر ٹی وی اک فلاپ ڈرامہ ہے اسے بند کیا جائے، ملک ابرار حسین کا کہنا تھا کہ کروناسے شدید متاثر ممالک، چین ووہان، سپین، انگلینڈ، انڈیا، ایران، بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت امریکہ، روس، ڈنمارک، فرانس، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، آسٹریلیا، نیوزیلینڈ، جرمنی، جاپان،کوریا، سعودی عرب،اسرائیل،ہانگ کانگ وغیرہ میں تعلیمی ادارے کھلے ہیں،تو پاکستانی بچے تعلیم سے محروم کیوں رکھے جا رہے ہیں؟۔انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کی بجائے امتحانات سماجی فاصلے برقرار رکھ کرلازمی کرائے جائیں۔نئی بورڈ رجسٹریشن فیس کا مطالبہ ظلم ہے کیونکہ بورڈز فیس کی مد میں 45لاکھ طلباسے 25ارب روپے پہلے ہی وصول کر چکے ہیں۔انہوں نے چیف جسٹس پاکستان، صدر پاکستان، آرمی چیف اور وزیراعظم سے داد رسی کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیم دشمن وزیر تعلیم کوبرطرف کیا جائے۔