ملک کے اندر پیٹرول بحران کی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے اور 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس کا ذمہ دار قراردیا گیا ہے۔ ڈی جی آئل ڈاکٹر شفیع آفریدی کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 9آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے جان بوجھ کرپیٹرول بحران پیدا کیا، اسٹوریج میں پیٹرول موجود ہونے کے باوجود یکم جون سے پیٹرول کی سپلائی محدود کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیٹرول کا بحران پیدا کرنے کے لیے 9 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے گٹھ جوڑ کیا، نجی کمپنیوں نے پیٹرول ذخیرہ کرنے کے لیے خلاف ضابطہ انفرا اسٹرکچر تعمیرکر رکھا ہے، انفرا اسٹرکچر پر حفاظتی معیار پرعمل نہ ہونے کے باعث کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے پیٹرول بحران پیدا کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔
پیٹرول بحران پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد یکم جون سے مختلف شہروں میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی، پیٹرول کی سپلائی نہ ہونے کے باعث متعدد پیٹرول پمپس بند جب کہ جو کھلے ہوئے تھے وہاں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔میڈیا پر خبر نشر ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ملک میں ہونے والے پیٹرول بحران کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر پیٹرولیم عمرایوب خان سے واقع کی رپورٹ طلب کی تھی۔
وزیر پیٹرولیم عمر ایوب خان نے 72 گھنٹوں میں پیٹرول کی سپلائی نارمل ہونے کا دعوی کیا تھا تاہم انہیں اپنے اس دعویٰ میں کامیابی نہ ہوسکی او ر پٹرولی کی قلت دور نہ ہوسکی۔



