تبدیلی ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیل رہی ہےحکمران ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفیٰ ہوں ، راحیل عباسی
ایم ایس ایف ن پنجاب کے جنرل سیکٹری ڈاکڑ ملک مقبول احمد خان نے کہا کہ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں تبدیلی مثبت اثرات لے کر آتی تو اسے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کی خاطر قبول بھی کرتے اور مکمل تعاون بھی کرتے لیکن یہ تبدیلی تباہی کا وہ طوفان لائی ہے جس نے معیشت کا جنازہ نکل دیا عوام سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں ابھی ایک ماہ قبل ہی تو گندم کی کٹائی ہوئی تو پھر مارکیٹ میں سے کیسے غائب ہو گئی ہے آٹے کا تھیلا تین سو روپے کیسے مہنگا ہو گیا ہے حالانکہ آپ نے تو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا چینی مافیا کے خلاف کارروائی کرنے کے باوجود قیمتیں کم نہیں ہوئی 55 روپے فی کلو ملنے کے بجائے آج بھی 85 روپے قیمت ہے اور مارکیٹ میں دستیاب بھی نہیں اسی طرح ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب غریب عوام کے لئے ادویات کا حصول بھی کسی خواب سے کم نہیں پھر جب عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زیرو پر تھیں تب بھی آپ نے عوام کو اس کا ریلیف نہیں دیا اور جب قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا تو آپ نے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آئے گا بجلی اور گیس کے نرخوں میں سینکڑوں گنا اضافہ کر کے بے شمار کاروباری مراکز کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا یہی وجہ ہے کہ بیسیوں کارخانے اور فیکٹریاں بنگلہ دیش, ملائشیا منتقل ہو گئے ہیں اور جو یہاں ہیں ان میں سے بھی بیشتر بند پڑے ہیں ہم آپ کی حکومت گرانا نہیں چاہتے لیکن ایسی تبدیلی کو کسی صورت بھی مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا جس میں عوام بھوک سے مر رہی ہو اور حکمران چین کی بانسری بجا رہے ہوں. ترجمان ایم ایس ایف ن راولپنڈی ڈویثرن راحیل عباسی نے کہا کہ تبدیلی کو ہر محاذ پہ ناکامی کا سامنا رہا ہے لیکن صد افسوس کہ ابھی تک یہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے ملک کو مزید مسائل کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں خارجہ پالیسی کو کامیاب کہنے والے اپنے بیانات سے ملکی ساخت کو نقصان پہنچا رہے ہیں ایک طرف وزارت خارجہ کے ترجمان کہتے ہیں ہم نے ملک کے اندر دہشت گرد تنظیموں کو ختم کر دیا ہے دوسری طرف عمران نیازی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے کر لاکھوں افراد کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں یہ آپ کی ناکام خارجہ پالیسی ہی ہے جس کی وجہ سے بھارت نے کشمیریوں سے ان کا حق خود ارادیت چھین کر کرفیو نافذ کردیا جس پر آپ اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرنے کے لئے مطلوبہ ممبران کی حمایت تک بھی حاصل نہیں کر سکے. آج عالمی میڈیا آپ کے پائیلٹ پر انگلیاں اٹھا رہا ہے اس لئے کہ جو معاملہ گھر کے اندر بیٹھ کر حل طلب تھا اسے آپ بین الاقوامی میڈیا کے سامنے لے آئے اور جو آواز عالمی فورم پر اٹھانے کی ضرورت ہے اس پر آپ کی نالائقی اور نااہلی سوالیہ نشان پیش کر رہی ہے . جو اعداد و شمار آپ بیان کرتے ہیں وہ عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہیں لوگ سادے الفاظ میں سمجھنا چاہتے ہیں کہ چینی 55 کی تھی تو 85 کی کیسے ہو گئی, پیٹرول 65 کا تھا تو 100 کا کیسے ہو گیا آٹا 40 کا تھا تو 60 کا کیسے ہو گیا. اگر آپ شہباز شریف کی میثاق معیشت کی پیشکش قبول کر لیتے تو آج ملک اس دورائے پر نہ کھڑا ہوتا. آپ کی تبدیلی خوشحالی کی نوید لے کر آتی تو آج ہر شخص نواز شریف , شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو نہ یاد کر رہا ہوتا انہوں نے قرضہ لیا لیکن ملک کو ترقی و خوشحالی کے سفر پر رواں دواں کر دیا تھا ملک کے اندر بے شمار میگا پراجیکٹ لگائے عوام الناس کو ہر چیز مناسب قیمت میں بآسانی دستیاب تھی لیکن آپ نے ملک کا شیرازہ بکھر دیا ترقی کے پہیے کو پیچھے موڑ دیا ارب ڈالر اور تاریخ کا سب سے زیادہ قرضہ لے کر بھی نتیجہ صفر سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
اس موقع پر ایم ایس ایف ن دیگر رہنماء راجہ شاہ رخ راجہ محمد نواز راجہ احسان سردار دانش مغل بشارت عباسی نواز مغل راجہ حسیب علی شیعب اعوان سفیان راجہ اور دیگر موجود تھے۔



