پانچ جولائی کی سیاہ رات گیارہ سال پر محیط تھی ، عامر صدیقی

راولپنڈی:جمہوری قوتیںہمیشہ عوامی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا تحفظ مقدم رکھتی ہیں ، بد ترین جمہوری حکومت بھی دور آمریت سے بہتر جانی جاتی ہے مارشل لاء جمہوریت کی نفی ہے ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنمامحمد عامر صدیقی نے 5 جولائی یوم سیاہ کے حوالے سے کیا انہوں نے کہا کہ ملک کو جمہوری فلاحی اور اسلامی آئین دینے والی عوامی حکومت اور منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار اور جمہوریت کی بساط لپیٹی اور5 جولائی 1977 کو شب خون مارتے ہوئے مارشل لاء نافذکیا ،اسلامی بلاک کیلئے کوشاں بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا اور ایک متنازعہ قتل کے مقدمہ میں ملوث کرتے ہوئے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اس دور میں تمام شعبہ زندگی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے جیلیں بھر دی گئیں صحافتی آزادی سلب کر دی گئی بے انصافوں کو انصاف کے مسند پر بٹھا کر انصاف کامنہ چڑایا گیا عامر صدیقی نے کہا کہ قوم کو بندوق کی نوک پر قائد اعظم کے پاکستان کے بجائے اس سوچ اور نظریہ سے متعارف کرانے کی کوشش کی جس کی آمریت کو ضرورت تھی 5 جولائی 77 کو نمودار ہونیوالی کالی رات کا جادو 11 سال بعد ٹوٹ ہی گیا لیکن اس کی سیاہی ابھی باقی ہے بے شک آج بھی قوم اس آمریت کے سائے سے پوری طرح نہ نکل سکی ، 5 جولائی کوجو سیاہ رات شروع ہوتی ہے اس کے اندھیرے میں قوم طویل عرصہ تک بھٹکتی رہی مگر یہ اندھیرا پوری طرح نہ چھٹ سکااس میں 12 اکتوبر 1999 کی سیاہیاں بھی شامل ہوگئیں۔