
سی این جی سٹیشنز کی گیس48 گھنٹوں کے لئے اور صنعتوں کی جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو بند رکھنے کا فیصلہ
کراچی:کے الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی کے بعد سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشن 10 جولائی سے صبح 8 بجے سے 48 گھنٹوں کے لیے بند کردیے گئے جبکہ حکومت نے صنعتوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار گیس نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوئی سدرن گیس کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کے-الیکٹرک کو اضافی گیس کی فراہمی کرنے کے لیے سی این جی بند کیے گئے ہیں۔ کے-الیکٹرک کو 50 ملین ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس فراہم کی جارہی ہے اور مجموعی طور پر سوئی سدرن کے الیکٹرک کو 290 ملین کیوبک فیٹ روزانہ ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کررہا ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ سندھ بھر میں سی این جی اسٹیشنز اتوار کی صبح 8 بجے کھول دیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی طویل بندش کا ذمہ دار بجلی کی طلب میں اضافے، فرنس آئل کی کمی اور ایس ایس جی سی کی جانب سے گیس کی فراہمی میں کمی کو قرار دیا تھا۔جس کے جواب میں سوئی سدرن نے یہ کہا تھا کہ کہ ایس ایس جی سی اور کے الیکٹرک کے درمیان کئی دہائیوں قبل صرف 10 ملین کیوبک فیٹ روزانہ فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔
شہر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال گرمی کے باعث بدترین ہوگئی تھی اور کئی علاقے 8-10 گھنٹوں تک بھی بجلی سے محروم رہے۔
دوسری جانب سے صنعتکاروں نے کراچی کی صنعتوں کو گیس کی 3 دن عدم فراہمی پر احتجاج کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سے کراچی کی صنعتوں کو تباہی سے بچانے کی اپیل کی ہے
صدر سائٹ ایسوسی ایشن سلیمان چالہ نے کہا کہ حکومت نے تمام صنعتوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار گیس نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے، صنعتوں میں گیس کی بندش سے پیداواری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوں گی، صنعتوں کی گیس کے الیکٹرک کو دیناسراسر ناانصافی ہے۔ رات میں بجلی بند اور دن میں گیس بند، صنعتیں کیسے چلائیں ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی کہ حکومت صنعتوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار کو گیس نہ دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا))کی جانب سے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کی گئی عوامی سماعت میں کے الیکٹرک نے بجلی کی ترسیل میں خامیوں کی ذمہ داری وفاق پر عائد کری تھی۔سی ای او کے-الیکٹرک نے بتایا تھا کہ ہم 3 ہزار 300 میگاواٹ کی طلب کے مقابلت میں ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔جس کے باعث کراچی میں تقریبا 3 سے ساڑھے 7 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کراچی لوڈشیڈنگ فری ایریا ہے۔اسی سماعت میں انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ہے کہ کے -الیکٹرک کو 280 ایم ایم سی ایف ڈی گیس نہیں بلکہ صرف 250 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جارہی ہے۔
وزارت توانائی نے کے-الیکٹرک کی جانب سے کراچی میں بجلی کی طویل بندش کو مارکیٹ میں فرنس آئل کی کمی کا ذمہ دار قرار دینے کے دعوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیاں اس مسئلے کو حل کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔وزارت توانائی کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کے الیکٹرک نے اپنے سسٹم کو اپ گریڈ کرنے میں سرمایہ کاری نہیں کی جس کی وجہ سے طلب عروج پر پہنچنے کے وقت اسے مشکلات کا سامنا ہے۔




