
اسلام آباد:ہائوسنگ و تعمیرات کے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کا کرونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا ہے اور وہ اس وقت پمز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پمز کے ترجمان
ڈاکٹر وسیم خواجہ نے تصدیق کی کہ مسلم لیگ ق کے رہنما بشیر چیمہ کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر کو طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں وائرس کی تشخیص ہوئی۔کورونا سے اب تک پاکستان تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی شاہین رضا، سندھ کے وزیر انسانی تصفیہ غلام مرتضی بلوچ، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمشید الدین کاکاخیل اور مسلم لیگ ن)کے رکن پنجاب اسمبلی شوکت منظور چیمہ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرچکے ہیں۔
اس سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا اور وہ اس وقت ملڑی ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج ہیں۔ واضح رہے کہ 9 جون کو وزیر ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔
وزیر ریلوے کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی رپورٹ سے کچھ گھنٹے قبل ہی سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر میں قرنطینہ کرلیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی جے پرکاش لوہانا بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں جے پرکاش کا کہنا تھا کہ ‘میرا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے’۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی ملک کے پہلے سیاستدان تھے جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ آئیسولیشن میں رہنے کے بعد صحتیاب ہو گئے تھے۔
اپریل میں ضلع مردان سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوئے تھے جبکہ وزیر صحت خیبرپختونخوا نے بتایا تھا کہ ان کے معاون خصوصی کامران خان بنگش میں بھی کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی۔اس کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی اور خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ خان کو بھی کورونا وائرس ہوا تھا۔
علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ان کے دو بچوں کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ عمران اسمعیل بھی وائرس کا شکار ہو گئے تھے لیکن چند روز قبل یہ دونوں وائرس سے صحتیاب ہو گئے تھے۔
مئی میں قومی اسمبلی کے دو اراکین محبوب شاہ اور گل ظفر خان سمیت ایوان زیریں کے متعدد ملازمین میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ رکن قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
21 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عطااللہ تارڑ بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے۔خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کے صدر انجینئر امیر مقام 24 مئی کو کورونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے اور انہوں نے خود کو قرنطینہ منتقل کرلیا تھا۔بعدازاں 25 مئی کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی تھی۔
30 مئی کو وزیر مملکت برائے سیفران اور انسداد منشیات شہریار آفریدی نے عالمی وبا کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔
3 جون کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے اراکین فیصل زیب خان اور صلاح الدین کے کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔
منیر اورکزئی اپریل کے اواخر میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جس پر انہیں 24 اپریل کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل کروایا گیا تھا جہاں سے صحتیاب ہونے کے بعد 7 مئی کو وہ ہسپتال سے ڈسچارج کردیے گئے تھے۔



