دعوے اپوزیشن ارکان کو اپنے ساتھ ملانے کے ہورہے ہیں اور سنبھالے اپنے ساتھی اور اتحادی نہیں جارہے
اتحادیوں سے کئی ایک ملاقاتوں کے باوجود معاملات طے نہ ہو سکے ،وزیراعظم کے بعد وزراء بھی شتربے مہار
مسلم لیگ ق کے بعد ایم کیو ایم نے بھی حکومت کو سرخ جھنڈی دکھادی، باپ کی بھی اتحاد سے علیحدگی کا خطرہ ،آئندہ اڑتالیس گھنٹے اہم
ترین اور علیم خان گروپ کی ناراضی بھی اپنی جگہ برقرار ہے ،کوئی معجزہ ہی عدم اعتماد کو ناکام بناسکتا ہے
ایسے نازک مواقع پر افہام و تفہیم کے لئے جس سیاسی سوجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے حکومت میں نہ اس کا جذبہ ہے اور نہ صلاحیت

اسلام آباد (محمدرضوان ملک ) اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے ساتھ ہی حکومت مشکلات میں گھر گئی تھی جن میں آئے روز اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے ۔وزیراعظم نے تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ اسمبلی میں کرنے کی بجائے اپوزیشن کو عوامی میدان میں جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اپوزیشن کے جلسوں کے جواب میں اس طرح عوامی اجتماعات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جیسے اپوزیشن سے ان کا مقابلہ اسمبلی میں نہیں بلکہ عوام میں ہورہا ہے ۔
حکومت اور وزیراعظم کے اس روئیہ سے حکومتی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں۔وزیراعظم کے بعد اب وزراء بھی اکھڑے کھڑے نظر آتے ہیں اور انہوں نے بھی معاملات سدھارنے کی بجائے اپنا وزن اور تجربہ تصادم کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔
وزراء ایک طرف مذاکرات کی بعد کررہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف دھمکیاں بھی دے رہے ہوتے ہیں۔
کہاں تو حکومت کی طرف سے یہ دعوےٰ کئے جارہے تھے کہ اپوزیشن کے کئی اراکان بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ حکومت سے اپنی پارٹی کے ساتھی اور اتحادی ہی نہیں سنبھالے جارہے گزشتہ روز وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اطلاعات فواد چودھری جو پہلے دھمکیاں دیتے نہیں تھکتے تھے ایک وقت میں اپوزیشن سے مذاکرات کی باتیں کررہے تھے شیخ رشید نے تو اپوزیشن کو دبے لفظوں میں مارشل لاء کے خطرے سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔
گزشتہ روز انہوں نے جوش میں آکرمسلم لیگ ق کو بھی کھری کھری سنادیں اس کا انہیں مونس الہٰی اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی جانب سے فوری کرارا جواب بھی ملا ۔
شیخ رشید کے اس بیان کے بعد حکومت کے ان دعوئوں کی کلی کھل گئی ہے کہ اتحادی کس حد تک ان کے ساتھ ہیں۔ اتنے نازک وقت میں وزیر داخلہ شیخ رشید کا حکومتی اتحادیوں کو ناراض کرنے کا بیان یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ معاملات حکومت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔
حکومت مسلم لیگ (ق) کو مطمئن کرنے میں ناکام ہوگئی جس کے باعث ق لیگ کی جانب سے حکومتی اتحاد چھوڑنے کا قوی امکان ہے جس کا فیصلہ اگلے 48 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کا اہم مشاورتی بیٹھک آج ہفتہ کو ہوا جس میں مسلم لیگ (ق) کے اپوزیشن اور حکومت سے ہونے والے مذاکرات سے متعلق غور کیا گیا۔
مسلم لیگ ق کا مشاورتی اجلاس آج بھی جاری رہے گا۔ اس حوالے سے چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کسی بھی کشمکش کا شکار نہیں اتوار کے اجلاس میں حتمی فیصلے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ق کو حکومت تاحال مطمئن نہیں کر پائی ہے جبکہ مسلم لیگ ق اور حکومت میں گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔ذرائع ق لیگ کے مطابق سیاست میں ضد یا انا نہیں بلکہ پارلیمانی و جمہوری رویے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، مسلم لیگ ق کی پنجاب سمیت ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔
کئی روز کے مذاکرات اور مشاور کے باوجود حکومت مسلم لیگ ق کے ساتھ ساتھ اپنی اتحادی ایم کیو ایم کو بھی راضی نہیں کر سکی ہے۔ اب تو بلوچستان عوامی پارٹی (باپ ) نے بھی حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں ترین اور علیم خان گروپ کی ناراضی بھی اپنی جگہ موجود ہے اور آئے روز اس میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہو ا ہے۔
ان معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی معجزہ ہی حکومت کو عدم اعتماد سے بچا سکتا ہے ۔ایسے نازک مواقع پر افہام و تفہیم کی جس سیاسی سوجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے حکومت میں نہ اس کا جذبہ ہے اور نہ صلاحیت



