ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تزویراتی تعاون کی جامع دستاویز ہے،سید محمد علی حسینی

 

ر چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کی ایجاد نے علاقائی سطح پر تعاون کے فروغ کی راہیں ہموار کر دی ہیں مغربی میڈیا اس بارے گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہا ہے ایرانی سفیر

کوئٹہ:پاکستان کیلئے ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان

25 سالہ تزویراتی تعاون کی جامع دستاویز ہے اسلامی جمہوریہ ایران، عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کے فروغ کو بین الاقوامی حقایق، استعداد اور دونوں ممالک کی مختلف النوع توانائیوں کو مدنظر رکہتے ہوئے تشخیص دیتا ہے ۔ قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ ایران کوئٹہ سے جاری بیان کے مطابق ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے طویل مدتی تعلقات کا سنگ بنیاد ایک 25 سالہ دورانئیے کے فریم پر رکہیں یہ نظریہ صدر عوامی جمہوریہ چین شی جی پینگ کے تہران کے 2016کے دورے کے موقع پر پیش کیا گیا اور دونوں ممالک نے اس کا استقبال کیا گذشتہ سالوں میں اس منصوبہ کے اجمالی اصول وضع کر لئے گئے اور ان کی تفصیل پر دونوں ممالک کے حکام کی بات چیت جاری ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے ایران او چین کے درمیان طویل مدتی تعاون کی جامع دستاویزآ ئیندہ دنیا کے دو اہم ممالک کے درمیان تعلقات کیلئے اصول بنانے کیلے روڈمیپ اور مستحکم پٹری کا کام دیگی جب کہ چین مستقبل قریب میں دنیا کی بڑی اقتصادی طاقت اور ایران مغربی ایشیا کی بڑی طاقتوں میں سے ایک اہم طاقت ہے۔ ہم روایتی تسلط پسند طاقتوں سے آزاد اور تکمیلی تعلقات کے ذریعہ مشترکہ مفادات کے حصول کیساتھ ساتھ مقررہ مقاصد تک رسائی کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کر کے اس پر عملدرآمد کر سکتے ہیں خوش قسمتی سے گذشتہ چند سالوں کے دوران عوامی جمہوریہ چین کیساتھ دوطرفہ تعلقات کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا ہے اور دونوں ممالک کی باہمی ہم آہنگی بین الاقوامی اور سیاسی سطح پر اسی روش پر رقرار رہی ہے۔ تہران اور بیجینگ کے درمیان تزویراتی تعلقات کے منصوبے کے ساتھ ہی ان تعلقات کے دشمنوں کی کوششیں بھی شروع ہو گئیں اور بے بنیاد افواہوں کے سلسلہ کا آغاز کر دیا گیا جو کہ مکمل طور پر غلط ہے یہ بے بنیاد باتیں کچھ مغربی میڈیا اور کچھ حکام کے ذریعہ چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کے متعلق پیش کی گئی ہیں ایران اور چین کے درمیان طویل مدتی تعاون کے بارے میں ایک بے بنیاد افواہ اس تعاون کو خفیہ رکھنے اور ان تفصیلات کو چھپانے کے بار ے میں اڑائی گنی ہے۔ہم واضح اعلان کرتے ہیں کہ یہ تعاون پوری طرح اوپن اور اعلانیہ ہے اور مذکورہ دورے کے مشترکہ اعلامیہ کے چھٹے پوائنٹ میں دونوں ممالک کی قیادت نے پوری صراحت کیساتھ 25 سالہ تزویراتی تعاون کی جامع دستاویز کے انعقاد کے ارادے کا ذکر کیا ہے اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے اپن آئین کی رو سے مغربی یا مشرقی ممالک کیساتھ جامع اور طویل مدتی معاہدوں کے انعقاد میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ کبھی پہلے تھی اور نہ اب ہے لیکن جب کچھ غیر ملکی حکومتیں اپنے معمول کے تعلقات کے تسلسل کو کسی تیسرے ملک کی مرضی اور اجازت سے منسلک کریں تو واضح بات ہے کہ اس طرح کی طویل مدتی دستاویز کے انعقاد کی طاقت ان میں موجود نہیں ہو گی

چین نے ایران کے ساتھ تعلقات کے عمل میں آزاد ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے تعلقات کے فروغ کو تیسرے ملک کی مرضی سے نہیں جوڑا اور ایران کیساتھ اس طرح کے طویل مدتی معاہدہ کا خیر مقدم کیا بلاشبہ بائی پاس روڈ اور چین پاکستان اقتصادی کوریڈور کی ایجاد نے علاقائی سطح پر تعاون کے فروغ کی راہیں ہموار کر دیں۔ خاص طور پر تین ہمسایہ ممالک اسلامی جمہوریہ ایران، اسلامی جمہوریہ پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان تعاون کے فروغ کے راستے ہموار ہوگئے ہیں یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچنے سے خطہ کے دوسرے ممالک تک توسیع کیلئے اپنی مثال آپ تصور ہو گا ۔