
اسٹریلیا میں 30 سے زیادہ ممالک سے شمسی توانائی پر چلنے والی گاڑیاں ڈارون سے ایڈیلیڈ تک کی تین ہزار کلومیٹر کی ریس میں حصہ لینے کے لیے پہنچ گئی ہیں۔آسٹریلیا میں 30 سے زیادہ ممالک سے شمسی توانائی پر چلنے والی گاڑیاں تین ہزار کلومیٹر کی ریس میں حصہ لینے کے لیے پہنچ گئی ہیں۔ یہ ریس گذشتہ 30 برسوں سے سال میں دو بار منعقد کی جاتی ہے۔اس ریس میں حصہ لینے والی ٹیم ان طلبہ پر مشتمل ہوتی ہیں جنھوں نے اپنے ہاتھوں سے یہ گاڑیاں بنائی ہوںریس میں حصہ لینے والوں نے پہلے پریکٹس کی اور پھر آٹھ اکتوبر کو فائنل ریس میں حصہ لیا۔بیلجیئم کی پنچ پاور ٹرین نامی ٹیم نے پول پوزیشن حاصل کی ہے۔ ان کی گاڑی 83.4 کلومیٹر فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے چلی۔منتظمین کا کہنا ہے کہ ریس کی قوانین بڑے واضح ہیں۔ ’یہ بات واضح ہے کہ ہزار واٹس کی گاڑی اس ریس کو 50 گھنٹوں میں مکمل کرے گی اس لیے ہر گاڑی کو پانچ کلو واٹ کی توانائی دی جاتی ہے۔ باقی ماندہ توانائی شمسی توانائی سے حاصل کرنا لازمی ہے۔‘منتظمین نے بتایا کہ قوانین کے مطابق ’ایک بار جب ریس میں حصہ لینے والے ڈارون سے نکلتے ہیں تو وہ شام پانچ بجے تک ڈرائیو کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ جہاں بھی ہیں ان کو وہیں کیمپ کرنا ہوتا ہے۔ ہر ٹیم کے پاس کیمپ کرنے کے لیے سامان ہونا چاہیے۔ریس کے روٹ پر سات چیک پوائنٹس آتے ہیںان چیک پوائنٹس پر صرف بنیادی مرمت کی اجازت ہوتی ہے جیسے کہ ٹائروں میں ہوا چیک کرنا اور گاڑی میں سے گند نکالنا۔ریس میں تین کیٹیگریز میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ چیلنجر کلاس، کروز کلاس اور ایڈونچر کلاس۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سب سے تیز چلنے والی شمسی توانائی کی گاڑی جمعرات کو ریس مکمل کرے گی۔



