یوم تشکر منانے والے اپنی 2 سالہ کارکردگی پر اللہ تعالی اور عوام سے معافی مانگیں’ شاہین کوثر ڈار


مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور یہ لوگ یوم تشکر منارہے ہیں، ریاست مدینہ میں سکھ گوردوارہ اور ہندوؤں کیلئے مندر تعمیر ہو رہے ہیں،

نیازی اس انتظار میں ہے کہ لانے

والے ہٹا دیں۔لانے والے اس انتظار میں ہیں کہ اپوزیشن اسے ہٹا دے۔لیکن اپوزیشن والے چاہتے ہیں کہ یہ مزید ذلیل ہو

 

مظفرآباد:یوم تشکر منانے والے اپنی 2 سالہ کارکردگی پر اللہ تعالی اور عوام سے معافی مانگیں۔پیپلز پارٹی نے اپنے منشور میں طاقت کا سر چشمہ عوام کو گردانا ہے۔آج بھی صنف نازک کے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار سابق ڈپٹی اسپیکر آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی محترمہ شاہین کوثر ڈار اور سابق سٹی صدر نازیہ ملک نے تحریک انصاف کی جانب سے اپنے حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر یوم تشکر منانے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹیڈ حکومت کی دو سالہ کارکردگی تاریخ کا بدنما داغ بن کر انکے ماتھے پر چمکتا رہے گا۔آج چاول 1500 سے 3100 روپے من ،آٹا 1500 سے 2600 روپے من ،چینی 2600 سے 4300،چوکر 750 سے 1750 روپے، گھی 550 سے 900 روپے دھڑی لوبیا 110سے 220 روپے کلو، مونگ دال 140 سے 300،چنا کابلی 100 سے 160،دال چنا 90 سے 170 روپے کلو ،سونا 48000 سے ایک لاکھ 23 ہزار روپے تولہ ، پیٹرول 60 روپے لیٹر سے 101 روپے،بی آرٹی منصوبہ کرپشن کی نذر،1کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دے کر تقریبا 7 لاکھ کے قریب لوگ روزگار سے فارغ، 50 لاکھ گھروں کا وعدہ لیکن لاکھوں لوگوں کی جھونپڑیوں تک کو نہیں بخشا گیا۔شاہین ڈار اور نازیہ ملک نے مزید کہا کہ ڈالر 110 سے 170 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، بجلی مہنگی،گیس مہنگی،یعنی ہر چیز کی قیمت دگنا ہوئی، اس نا اہل حکومت میںبیرونی قرضوں میں 12ہزار ارب کا اضافہ،چور چور کے نعرے لگانے والے خود سب سے بڑے چور نکلے۔ مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور یہ لوگ یوم تشکر منارہے ہیں ۔آٹا چور،چینی چور، دال چور، ماسک چور،دوائی چور، پیٹرول چور۔اور کرپشن میں 3 فیصد اضافہ۔فارن پالیسی سفیر کشمیر نے کشمیر کو انڈیا کے حوالہ کردیا۔کوئی نئے منصوبے شروع نہیں کئے ۔ ریاست مدینہ میں سکھ گوردوارہ اور ہندوؤں کیلئے مندر تعمیر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اب کھیل دلچسپ مراحل میں ہے۔نیازی اس انتظار میں ہے کہ لانے والا مجھے ہٹا دیں۔لانے والے اس انتظار میں ہیں کہ اپوزیشن اسے ہٹا دے۔لیکن اپوزیشن والے چاہتے ہیں کہ یہ مزید ذلیل ہو۔