اپوزیشن کی35 ترامیم سے نیب کاادارہ مفلوج ہوجائے گا اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے خلاف ہیں، ہم بل ایوان میں پیش کریں گے اور ووٹنگ کرائیں گے

 

 

 

وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم اورمشیرداخلہ شہزاد اکبر اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو

 

اسلام آباد:اپوزیشن نے قانون سازی کے حوالے سے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کر دیا جس کے باعث پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس موخر کر دیا گیا،مشیرداخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ اپوزیشن جومانگ رہی ہے وہ پی ٹی آئی تو کیا کوئی بھی منتخب حکومت کبھی نہیں کرسکتی، اپوزیشن کے35 نکات اتنے ناقابل عمل ہیں کہ ان پربات بھی نہیں ہوسکتی،اپوزیشن کی35 ترامیم سے نیب کاادارہ مفلوج ہوجائے گا جبکہ وفاقی وزیر برائے قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے خلاف ہیں، ہم بل ایوان میں پیش کریں گے اور ووٹنگ کرائیں گے۔اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کااجلاس نہ ہوسکا،کمیٹی ارکان بھی اجلاس موخر ہونے کے باعث کمیٹی روم سے چلے گئے، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ(آج)اپوزیشن سے پھر رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے،میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیرداخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ اپوزیشن جومانگ رہی ہے وہ پی ٹی آئی تو کیا کوئی بھی منتخب حکومت کبھی نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی ہے احتساب کے عمل کوبندکردیاجائے۔ اپوزیشن کے35 نکات اتنے ناقابل عمل ہیں کہ ان پربات بھی نہیں ہوسکتی،شہزاد اکبر نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کوبلیک میل نہ کرے،اپوزیشن کی35 ترامیم سے نیب کاادارہ مفلوج ہوجائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ہے،اپوزیشن ایف اے ٹی ایف قوانین کو پس پشت ڈال رہی ہے،اپوزیشن کے مطالبات حکومت کے اینٹی کرپشن بیانیے کے خلاف ہیں،فروغ نسیم نے کہا کہ ہم بل ایوان میں پیش کریں گے اور ووٹنگ کرائیں گے ۔