ترکی اور ایران کی متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کی شدید مذمت پاکستان کا گول مول موقف بھی سامنے آگیا

 

اسلام آباد:امریکی اثر و رسوخ سے آزاد اسلامی دنیا کے دو اہم ممالک ترکی اور ایران نے متحدہ عرب امارات کے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلام اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ قراردیا۔اسلام کے قلعے پاکستان کا اس حوالے سے گول مول موقف سامنے آیا ہے۔
ترک وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق امارات نے محدود مفادات کے لیے فلسطینی کاز کے ساتھ غداری کی، لوگوں کا ضمیرمنافقانہ رویے نہ فراموش کرے گا نہ ہی معاف کرے گا۔
ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو ایک ریاست تسلیم کرنے سے خطے میں عدم استحکام آئے گا اور فلسطین کی آزادی اور اس کی خود مختاری کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ یو اے ای برسوں سے فلسطینی جدوجہد کو کمزور کرنے اور اسرائیل کے مزید فلسطینی سرزمین پر غاصبانہ قبضے کی حمایت کے لیے کام کر رہا تھا اور ترکی اس ڈیل کو مسترد کرتا ہے۔
ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مطابقت فلسطینی عوام اور ان کے حقوق سے انحراف کی تاریخ کا سیاہ باب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اس معاہدے کی روشنی میں فلسطینی عوام کے ساتھ کی گئی غداری اور حق تلفیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
معاہدہ اسٹریٹجک حماقت ہے، ایران
ایران نے بھی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کی مذمت کی ہے اور معاہدے کو اسٹریٹجک حماقت قرار دے دیا۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ابو ظبی اور تل ابیب کی طرف سے اسٹریٹجک حماقت ہے، اس اقدام سے خطے میں مزاحمت اور مضبوط ہوگی۔ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔
امارات اسرائیل امن معاہدے کے بعد فلسطین نے ابوظبی سے احتجاجا اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے یو اے ای کے اس عمل کو غداری قرار دیا ہے۔محمود عباس نے یو اے ای سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے اور دیگر عرب ممالک فلسطینیوں کے حقوق کو پامال کرتے ہوئے امارات کے نقش قدم پر مت چلیں۔
ادھر فلسطینی مزاحتمی تنظیم حماس نے امارات اسرائیل معاہدے کو فلسطینیوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کیلئے امن معاہدہ طے پایا ہے۔معاہدے کے تحت اسرائیل مزید فلسطینی علاقے ضم نہیں کرے گا، دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر روڈ میپ بنائیں گے۔
معاہدے کے مطابق امریکا اور متحدہ عرب امارات، اسرائیل سے دیگر مسلم ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، اسرائیل سے امن کرنے والے ممالک کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس آ کر مسجد اقصی میں نماز پڑھ سکیں گے۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے باہمی تعلقات کا معاہدہ طے پانے کے باوجود مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا منصوبہ ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے متحدہ عرب امارات سے معاہدے کے ایک روز بعد ہی اپنے بیان میں مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے سے متعلق اہم بیان دیا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سے باہمی تعلقات کے معاہدے کے تحت وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے منصوبے میں تاخیر پر رضا مند ہیں لیکن یہ منصوبہ اب بھی ان کی ٹیبل پر موجود ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ انہوں نے صرف اس منصوبے میں تاخیر پر رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن وہ اپنے حقوق اور اپنے زمین کے لیے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی خودمختاری کو بڑھانے کے منصوبے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، مغربی کنارے کے علاقوں میں امریکا کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ہماری خودمختاری ہے۔ذرائع کے مطابق یو اے ای کے بعد ایک اور عرب ملک کے اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال ہونے کا امکان ہے۔ اس معاہدے کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل اور امریکا سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور عرب امارات سے بھی اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے پر پاکستان کا گول مول موقف بھی سامنے آگیاہے۔جو کسی بھی صورت اسلام کے قلعے کی نمائندگی نہیں کرتا ۔دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان معاہدے کے دور رس مضمرات ہوں گے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق میں ان کی خود مختاری کا حق شامل ہے اور مشرق وسطی میں امن و استحکام پاکستان کی اہم ترجیح ہے۔
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے انصاف پر مبنی جامع اور پائیدار امن کے لیے ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے، دو ریاستی حل اقوام متحدہ، او آئی سی قراردادوں اورعالمی قوانین کے مطابق ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہماری اپروچ اس بنیاد پرہوگی کہ فلسطینیوں کے حقوق اورخواہشات کوکیسے برقرار رکھا جاتا ہے، پاکستان جائزہ لیگا کہ خطے کے امن اور سیکیورٹی اور استحکام کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔
ترکی نے اسرائیل سے امن معاہدہ کرنے پر متحدہ عرب امارات(یو اے ای) سے سفارتی تعلقات معطل کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔