سی ڈی اے کے کمرشل پلاٹوں کا نیلام عام  21،22  اور  23ستمبر کو گا 

اسلام آباد :وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے)وفاقی حکومت کی ملک میں تعمیراتی انڈسٹری کو فروغ دینے کے تناظر میں رواں ماہ 21،22  اور  23ستمبر کو کمرشل پلاٹوں کے نیلام عام کا انعقاد کر رہا ہے۔  سی ڈی اے کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق تین ماہ کی قلیل مدت کے دوران کمرشل پلاٹوں کا یہ دوسرا نیلام عام ہے۔ جولائی کے مہینے میں سی ڈی اے نے کمرشل پلاٹوں کی تاریخی نیلامی کی تھی جس میں سرمایہ کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سی ڈی اے نے بلیو ایریا نیو وژن کے 12 پلاٹ 17.4 ارب روپے میں نیلام کیے۔ رواں ماہ ہونے والے کمرشل پلاٹوں کے نیلام عام میں اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ سرمایہ کار وفاقی حکومت بالخصوص سی ڈی اے کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر اعتماد کرتے ہوئے اس نیلامی میں بھر پور حصہ لیں گے۔تین روزہ نیلامی کے دوران سی ڈی اے اسلام آباد کے مختلف ڈویلپڈ سیکٹرز کے کمرشل پلاٹ نیلامی کے لیے پیش کرے گا۔اس نیلامی میں بلیو ایریا نیو وژن کے پلاٹ بھی نیلام کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ اسی طرح اس نیلامی میں صنعتی پلاٹ،ایگرو فارمز کے پلاٹ،اپارٹمنٹس کے پلاٹس کے علاوہ کلاس تھری شاپنگ سینٹرز کے پلاٹس بھی نیلامی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ اس نیلامی میں جی ٹین مرکز، آئی ایٹ مرکز، ڈپلو میٹک انکلیو، ایف ٹین مرکز کے کمرشل پلاٹوں کے علاوہ انڈسٹریل ٹرائینگل کہوٹہ کے انڈسٹریل پلاٹس کے علاوہ جی نائن ون، جی نائن ٹو،جی ٹین تھری،جی الیون فور اور آئی الیون فور کے کلاس تھری شاپنگ سینٹر کے پلاٹس نیلامی کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ سی ڈی اے کی موجودہ انتظامیہ وفاقی حکومت کی تعمیراتی انڈسٹری کو فروغ دینے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔ سی ڈی اے نے بلیو ایریا نیو وڑن کے  پلاٹوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے متعدد مراعات کا بھی اعلان کیا تھا۔ اسی طرح سی ڈی اے میں بلڈرز اور ڈویلپرز کے ساتھ گذشتہ ہفتے دو روزہ اجلاس بھی منعقد کیا تھا تاکہ بلڈرز اور ڈویلپرز کے مسائل کو سننے کے بعد حل کیا جا سکے جس کے نتیجے میں بلڈرز اور سرمایہ کاروں کے لیے سی ڈی اے کی طرف سے متعدد مراعات کا اعلان کیا گیا۔ رواں ماہ منعقد ہونے والی نیلامی اس سمت میں سنگ میل ثابت ہو گی۔ آکشن میں حصہ لینے کے لیے بروشرز سی ڈی اے کے ون ونڈو آپریشن ڈائریکٹوریٹ اور مختلف بینکوں کی نامزد کردہ برانچوں سے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ سی ڈی اے نے نیلامی کے عمل کی نگرانی کے لیے ممبر فنانس کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے۔