متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ٹرمپ کی سرپرستی میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط

خلیج میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد چار ہوگئے،مصر اور اردن کے پہلے ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں

واشنگٹن :متحدہ عرب امارات اور بحرین نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق تاریخی معاہدے ابراہام اکارڈ پر دستخطوں کے بعد خلیج کے یہ دونوں ملک اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات رکھنے والے دیگر دو عرب ممالک مصر اور اردن کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔معاہدے پر دستخطوں کی اس تقریب میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزایانی اور اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے شرکت کی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے بحرین اور امارات کے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو مشرق وسطی کے لیے نئی شروعات قرار دیا۔تقریب کے لیے وائٹ ہاس میں جمع سینکڑوں شرکا سے خطاب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دہائیوں کے تنازعات اور تقسیم کے بعد ہم ایک نئے مشرق وسطی کی شروعات کا نظارہ کر رہے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج کی دوپہر ہم یہاں تاریخ کا دھارا تبدیل کرنے کے لیے جمع ہیں۔


تینوں ملکوں نے اس دوران ایک سہ فریقی معاہدے پر بھی دستخط کیے جس کا مسودہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔
معاہدے پر دستخطوں کی یہ تقریب وائٹ ہاوس کے جنوبی لان میں منعقد ہوئی ۔ یہ یہی جگہ ہے جہاں سنہ 1993 میں اسرائیل اور فلسطینی قیادت نے اوسلو معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس تقریب میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت 700 اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔
قبل ازیں جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ بحرین اور اسرائیل ایک امن معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ایک اور تاریخی پیش رفت،ہمارے دو عظیم دوست اسرائیل اور بحرین امن معاہدے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔
اگست کے مہینے میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے لیے معادہ ہوا تھا۔