قومی اسمبلی اجلاس: سی پیک اتھارٹی کا قیام اور 26 واں آئینی ترمیمی بل پیش

ڈپٹی سپیکر نے دونوں بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے، بل کی کاپیاں نہ دینے پر اپوزیشن اراکین کا احتجاج

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) پاک چین اقتصادی راہداری( سی پیک ) اتھارٹی کے قیام کا بل 2020 اور سینیٹ شفاف انتخابات اور دہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کر کردئیے گئے ۔ ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے دونوں بلز متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے جبکہ بل کی کاپیاں نہ دینے پر اپوزیشن اراکین نے ایوان میں احتجاج کیا۔ سی پیک اتھارٹی بل پر ڈپٹی سپیکر نے خواجہ آصف کو بولنے کی اجازت نہیں دی۔بل میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کے ملازمین سول ملازمین تصور نہیں ہوں گے جبکہ اتھارٹی کے چیئرپرسن اور اراکین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاسکے گی۔اتھارٹی کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ سی پیک منصوبوں میں آسانی پیدا کرنے، رابطہ کاری، فیصلوں کے نفاذ، منصوبوں کی نگرانی اور ان کی جانچ کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔اتھارٹی کی منصوبہ بندی کا کام منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے اختیار کردہ موجودہ انتظامات کی پیروی میں ہو گا۔سی پیک اتھارٹی کے چیئرپرسن سی پیک سے متعلق کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے سکیں گے اور اتھارٹی کا اجلاس طلب کر سکے گا جبکہ اتھارٹی کا ہر مالی سال میں سہہ ماہی بنیادوں پر اجلاس ہوگا اور کورم کے لیے تعداد کل اراکین کی دو تہائی ہو گی۔بل میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کاروباری کونسل بھی قائم کی جائے گی، سی پیک فنڈ وزارت خزانہ کی منظوری سے تشکیل دیا جائے گا جبکہ حسابات کی جانچ پڑتال آڈیٹر جنرل کرے گا۔
قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اس بل کے قانون بننے تک سی پیک سے متعلقہ سرگرمیاں بدستور جاری رہیں گے، اتھارٹی اپنے امور کی انجام دہی کے لیے مربوط معلومات طلب کر سکے گی اور اس حوالے سے کسی بھی اتھارٹی یا ایجنسی، صوبائی یا مقامی حکومت سے سہولت حاصل کر سکے گی۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹ کے سابق چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے سینیٹ میں ایک توجہ دلا نوٹس پر بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ‘سی پیک اتھارٹی کس قانون کے تحت کام کررہی ہے’۔انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ گزشتہ سال جاری کردہ اس آرڈیننس کو قومی اسمبلی نے جنوری میں ایک قرار داد کے ذریعے 120 دن کی توسیع دی تھی لہذا جون میں آرڈیننس کی توسیع شدہ مدت اختتام کو پہنچی۔سینیٹر ربانی نے کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے اپنے فنڈز اور بینک اکانٹ ہیں اور وہ حیرت زدہ ہیں کہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور دیگر ادائیگیوں کے لیے یہ کس طرح چلایا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ صدرمملکت نے 8 اکتوبر 2019 کو جاری کردہ آرڈیننس کے ذریعے 10رکنی سی پیک اتھارٹی قائم کی تھی جس کے تحت اربوں ڈالر کے روڈ اور ریل نیٹ ورک سے متعلق منصوبوں میں تیزی لائی جانی تھی جو چینی علاقوں کو بحیرہ عرب سے پاکستان کے راستے جوڑتے ہیں۔
اتھارٹی کو یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ معاشی نمو کے نئے محرکات کو تلاش کرے اور علاقائی اور عالمی رابطے کے ذریعے باہمی طور پر منسلک پیداواری نیٹ ورک کی اور عالمی ویلیو چینز کی صلاحیت کو پرکھے۔
پیک اتھارٹی بل کے متن میں کہاگیا ہے کہ اتھارٹی چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تمام سرگرمیوں سے متعلقہ بلا رکاوٹ اطلاق کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔ اتھارٹی راہداری سے متعلق آسانی ،ربط دہی پیدا ، نافذ کرنے کی نگرانی اور جانچ کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔ اتھارٹی کی منصوبہ بندی کا کام منصوبہ بندی کمیشن کی جانب سے اختیار کردہ موجودہ انتظامات کی پیر وی میں ہو گا۔ سی پیک سے متعلقہ سرگرمیوں کے اقدامات بدستور اس ایکٹ کے فعال ہونے تک جاری رہیں گے۔ بل میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی اپنے امور کی انجام دہی کے لیے مربوط معلومات طلب کر سکتی ہے۔ متعلقہ وزارتوں، دفاتر اور محکموں کے ساتھ فریم ورک کو آسان بنانے کا معاملہ اٹھا سکتی ہے۔ سی پیک مشترکہ تعاون کمیٹی اور مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس کا انتظام کرے گی۔بل کے مطابق اتھارٹی چیئرمین، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آپریشنز یا ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریسرچ اور 6 دیگر اراکین پر مشتمل ہو گی۔ چیرپرسن اتھارٹی کا کنوینیر اور سربراہ ہو گا جس کا تقرر حکومت 4 سال کے لیے کرے گی۔ چیئرمین کو مزید 4 سال کے لیے دوبارہ مقررکیا جا سکے گا۔ اتھارٹی کے اراکین کا تقرر وزیراعظم کی جانب سے 4 سال کی مدت کے لیے ہو گا۔ اراکین بھی دوبارہ تقرری کے اہل ہوں گے۔ چیئرپرسن اور اراکین کی شرائط و ضوابط کا تعین وزیراعظم کرے گا۔ چیئرپرسن سی پیک کمیٹیاں اور ذیلی کمیٹیاں تشکیل کر سکے گا۔ اتھارٹی کا اجلاس بلا سکے گا۔ اتھارٹی ہر مالی سال میں سہہ ماہی بنیادوں پر اجلاس کرے گی۔ کورم کل اراکین کا دو تہائی ہو گا۔ مفاد کا ٹکرائو رکھنے والا کوئی بھی شخص چیرپرسن رکن اور ای ڈی نہیں بن سکے گا۔ متن میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کاروباری کونسل بھی قائم کی جائے گی۔ سی پیک فنڈ بھی وزارت خزانہ کی منظوری سے قائم ہو گا۔ اتھارٹی کے حسابات کی جانچ پڑتال آڈیٹر جنرل کرے گا۔ اتھارٹی کے ملازمین سول ملازمین تصور نہیں ہوں گے۔ اتھارٹی کے چیرپرسن اور اراکین کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کی جا سکے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر نے دونوں بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوا دیئے ۔اپوزیشن کی جانب سے بل کی کاپیاں نہ دینے پراحتجاج کیا گیا ۔مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے سی پیک اتھارٹی بل پر بولنے کی کوشش کی لیکن سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہیں دی ۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں سینیٹ شفاف انتخابات اور دہری شہریت والوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت سے متعلق آئین میں ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ۔بل وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے قومی اسمبلی میںپیش کیا ۔بابر اعوان نے کہا 26 ویں آئینی ترمیم سینیٹ انتخابات،خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے متعلق ہے۔بل کے تحت آبادی کی بجائے رجسٹر شدہ ووٹرز کی بنیاد پر حلقہ بندی ہو گی۔ بابر اعوان نے کہا سمندر پار پاکستانیوں کو حق رائے دہی اور انتخابات میں دہری شہریت والوں کی مشروط شمولیت ہو سکے گی۔ 26وین آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 59۔ 63 اور 226 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔