
لاڑکانہ:والد سمیت تہرے قتل کے ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کے لیے امِ رباب چانڈیو نے گڑھی خدا بخش میں احتجاجی دھرنا دے دیا۔پولیس نے امِ رباب کو گڑھی خدابخش میں واقع سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مزار پر جانے سے بھی روکا۔ایس ایس پی مسعود بنگش نے امِ رباب کو مزار پر جانے سے روکے جانے کی تصدیق کی اور کہا کہ بینظیر بھٹو کے مزار کے سیکیورٹی انتظامات کے باعث انہیں روکا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امِ رباب چانڈیو سابق وزیراعظم کے مزار پر سیاسی شو کرنا چاہتی تھیں، کسی بھی ممکنہ گڑبڑ کو روکنے کے لیے سیکیورٹی لگائی گئی۔ایس ایس پی نے وضاحت میں یہ بھی کہا کہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پیپلز پارٹی سے وابستہ افراد کے خلاف بات کرنے سے امن و امان کی صورتحال پیش آسکتی تھی، اس لیے انہیں روکا۔
ام رباب گڑھی خدا بخش میں 15 منٹ تک احتجاجی دھرنا دینے کے بعد واپس روانہ ہوگئیں۔چند روز قبل پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نوابزدہ سردار خان چانڈیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امِ رباب کے والد سمیت تہرے قتل سے میرا ور برہان چانڈیو کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نیکہا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کی آڑ میں ہمارے گھروں کا تقدس پامال کیا گیا، ہمارے نام ایف آئی آر میں بدنیتی کی بنیاد پر شامل کیے گئے ہیں۔سردار خان چانڈیو نے یہ بھی کہا تھا کہ قتل کیس میں قاتل اور مقتول آپس میں قریبی رشتے دار ہیں، تہرے قتل کا واقعہ خاندانی رنجش کی وجہ سے پیش آیا۔
انصاف کی متلاشی ،ام رباب کا گڑھی خدا بخش میں احتجاجی دھرنا
لاڑکانہ:والد سمیت تہرے قتل کے ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کے لیے امِ رباب چانڈیو نے گڑھی خدا بخش میں احتجاجی دھرنا دے دیا۔پولیس نے امِ رباب کو گڑھی خدابخش میں واقع سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مزار پر جانے سے بھی روکا۔ایس ایس پی مسعود بنگش نے امِ رباب کو مزار پر جانے سے روکے جانے کی تصدیق کی اور کہا کہ بینظیر بھٹو کے مزار کے سیکیورٹی انتظامات کے باعث انہیں روکا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امِ رباب چانڈیو سابق وزیراعظم کے مزار پر سیاسی شو کرنا چاہتی تھیں، کسی بھی ممکنہ گڑبڑ کو روکنے کے لیے سیکیورٹی لگائی گئی۔ایس ایس پی نے وضاحت میں یہ بھی کہا کہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پیپلز پارٹی سے وابستہ افراد کے خلاف بات کرنے سے امن و امان کی صورتحال پیش آسکتی تھی، اس لیے انہیں روکا۔
ام رباب گڑھی خدا بخش میں 15 منٹ تک احتجاجی دھرنا دینے کے بعد واپس روانہ ہوگئیں۔چند روز قبل پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی نوابزدہ سردار خان چانڈیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ امِ رباب کے والد سمیت تہرے قتل سے میرا ور برہان چانڈیو کا کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نیکہا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کی آڑ میں ہمارے گھروں کا تقدس پامال کیا گیا، ہمارے نام ایف آئی آر میں بدنیتی کی بنیاد پر شامل کیے گئے ہیں۔سردار خان چانڈیو نے یہ بھی کہا تھا کہ قتل کیس میں قاتل اور مقتول آپس میں قریبی رشتے دار ہیں، تہرے قتل کا واقعہ خاندانی رنجش کی وجہ سے پیش آیا۔
دوسری جانب امِ رباب چانڈیو کے والد سمیت تہرے قتل کیس میں نامزد مفرور ملزمان غلام مرتضی چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو کے بلوچستان میں فرار ہونے کی اطلاعات آئی ہیں، ایڈیشنل آئی جی سکھر نے معلومات اور گرفتاری کیلئے بلوچستان حکومت سے رابطے کا ٹاسک ایس ایس پی لاڑکانہ مسعود بنگش کو سونپ دیا ہے۔
ایڈیشنل آئی جی سکھر ریجن کامران فضل کی جانب سے جاری نوٹیفیکشن کے مطابق قتل کیس میں نامزد مفرور ملزمان غلام مرتضی چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو بلوچستان میں فرار ہیں۔ایس ایس پی لاڑکانہ نے دونوں ملزمان کی گرفتاری کے لیے بلوچستان میں رابطے شروع کردیے ہیں۔
دادو کی تحصیل میہڑ میں17 جنوری 2018 کو چانڈیو برادری کے افراد نے فائرنگ کر کے امِ رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا تھا۔




