25 جون سے لاپتہ لڑکی کو بازیاب نہ کرانے پر عدالت کی جانب سے آئی جی پولیس اسلام آباد کی سخت سرزنش ایک ہفتے کے اندر دوسری بہن کو برآمد کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے

اسلام آباد(رپورٹ:،ناصرکاظمی) سپریم کورٹ میں”دو لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اغوا کرلینے” کے مقدمہ کے ایک ملزم کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست کی سماعت کے دوران تھانہ کرال اسلام آباد کے تفتیشی تھانیدار کی جانب سے بازیاب ہونے والی ایک لڑکی کا ڈی این اے ٹسٹ نہ کروانے پر جسٹس منظور احمد ملک نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر آئی جی اسلام کو طلب کرلیا اور انہیں ایک ہفتہ کے اندر اندر دوسری لڑکی کو بھی بازیاب کروا کر عدالت میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے ، جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سید منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے 25جون 2020کو دیگر ملزمان کے ہمراہ شادہی شدہ 18 سالہ نسیم بی بی اور 14سالہ رخسانہ کو بہلا پھسلا کر اغوا کرلینے کے مقدمہ کے ملزم محمد عمران کی ضمانت کی سماعت کی تو ملزم کی جانب سے ذوالفقار احمد بھٹہ ایدوکیٹ پیش ہوئے ،تفتیشی تھا نیدار نے عدالت کے استفسار پر بیان کیاکہ مدعی کی نشاندھی پر میں نے ایک کھلے میدان سے نسیم بی بی کو بازیاب کیا تھا ،جس پر عدالت نے اس سے استفسار کیا کہ کیا تم نے اس کا ڈی این اے ٹسٹ ( ریپ مقدمات کا لازمی تقاضہ) کروایا ہے ،تو اس نے کہا کہ نہیں ،جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا جبکہ وہ دیگر سوالات پر بھی عدالت کو مطمئن نہ کرسکا ، ملزم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مدعی نے ملزمان کوبلیک میل کرکے ان سے پیسے بٹورنے کے لئے خود ہی ان لڑکیوں کو غائب کیا ہے ،اسی بنا پر سامنے آنے والی لڑکی کا ڈی این اے نہیں کروایا گیا ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی ریپ کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے ، عدالت نے سماعت میں وقفہ کرتے ہوئے فوری طور پر آئی جی اسلام آباد کوطلب کرلیا ،دوبارہ سماعت پر جسٹس منظور احمد نے آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس اس نوعیت کے مقدمات میں اس طرح سے تفتیش کرتی ہے؟انہوںنے کہا کہ بتائیں کہ یہ لڑکیاں کب اغوا ہوئی تھیں؟ان میں سے ایک(نسیم بی بی)توبازیاب ہو گئی ہے جبکہ دوسری رخسانہ تاحال لاپتا ہے ،عجیب بات ہے کہ پولیس 25 جون سے اب تک لڑکی کو بازیاب نہیں کرواسکی ہے ،انہوںنے آئی جی کو کہا کہ ہم آپ کو ایک ہفتے کی مہلت دے رہے ہیں ،اگلی جمعرات تک دوسری لڑکی کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش رفت رپورٹ جمع کروائیں،بعد ازاں کیس کی مزید سماعت17 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی،یاد رہے کہ مدعی احمد خان نے ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ ملزم عمران اور اس کے بھائی جمعہ خان نے دیگرملزمان کے ہمراہ اس کی بیٹی نسیم بی بی اور بھتیجی رخسانہ کو اغوا کرلیا ہے ،اسی دوران نسیم بی بی بازیاب ہوگئی جبکہ رخسانہ تاحال لاپتہ ہے جبکہ ،ملزم عمران بھی پچھلے 5ماہ سے جیل میں بند ہے اور اس کی ضمانت نچلی عدالتوں سے خارج ہونے کے بعد اس کی جانب سے سپریم کورٹ میں ضمانت کی یہ درخواست دائر کی گئی ہے ۔



