غذائی تحفظ سب سے بڑا چیلنج ،انسانیت کو درپیش صحت کے مسائل کو دور کرنے کے لئے ایک صحت کا نظام ضروری ہے،کامسٹک کے زیراہتمام ویبنار

غیر محفوظ کھانا عالمی صحت کے لئے خطرہ ہے اس میں نقصان دہ بیکٹیریا، وائرس، یا کیمیائی مادے ہوتے ہیںجو 200 سے زائد بیماریوں کا سبب بنتے ہیں

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)کامسٹک نے اپ سائن، یوکے اور پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کے اشتراک سے”ایک صحت” پر ایک ویبنار کا انعقاد کیا۔ پاکستان، برطانیہ اور ترکی سے تعلق رکھنے والے چھ مقررین نے اس ویبینار سے خطاب کیا اور ایک بڑی تعداد میں شائقین نے آن لائن شرکت کی۔پروفیسر ڈاکٹر ایم اقبال چودھری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے اپ سائن کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ کووڈ کے بعد آج خوراک اور صحت کے شعبوں میں دنیا کو درپیش متنوع چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ون ہیلتھ کے نظام کو اختیار کرنا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ویبنار کی نظامت کی، انہوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ ہمیں نہ صرف زونوز (جانوروں سے انسانوں کو لگنے والی بیماریاں)پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے بلکہ ماحولیاتی نظام کو ون ہیلتھ سسٹم کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج سمجھنا چاہئے۔ماہرین نے نشاندہی کی کہ پاکستان سمیت پوری ترقی پذیر دنیا کو جانوروں اور انسانوں دونوں میں پھیلنے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جو بیکٹیریا اور وائرس کی وجہ سے ہوتی ہیں اور مختلف ویکٹرز کے ذریعہ پھیلتی ہیں۔ ماہرین نے خوراک کے نظام کی حفاظت کے ذریعے اپنی صحت کی حفاظت کے لئے فوری طور پر کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔غذائی تحفظ سب سے بڑا عالمی چیلنج بن گیا ہے۔ غیر محفوظ کھانا عالمی صحت کے لئے خطرہ ہے۔ ماہرین نے مطلع کیا کہ غیر محفوظ کھانا، جس میں نقصان دہ بیکٹیریا، وائرس، یا کیمیائی مادے ہوتے ہیں، 200 سے زائد بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔مقررین کی طرف سے اس بات پر زور دیا گیا کہ مختلف قسم کے متنوع عوامل جو محفوظ خوراک کی فراہمی کی پیداوار اور تقسیم پر اثرانداز ہوتے ہیں، قدرتی وسائل کی دستیابی، صحت مند ماحولیاتی نظام، مارکیٹ کی عالمگیریت، موسمیاتی تبدیلی، سیاسی عدم استحکام اور غربت ان سب کا حل ایک صحت کے نظام کو اپنانے میں ہے۔