دنیا کو پاکستان کے حلال فوڈ پر اعتمادمگر بدقسمتی سے حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کا حصہ بہت کم

ہماری پروڈکٹس صحت مند ہیں،پاکستان حلال مارکیٹ میں لیڈرشپ کے طور پر ابھرسکتا ہے ، پورے ملک میں آگاہی پروگرام کر رہے ہیں، پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل کے زیراہتمام آگاہی سیمینار سے مقررین کا خطاب

اسلام آباد(نیوزرپورٹر)پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل حلال ایکریڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل صمت گل خٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کے ایک مخصوص اسلامی تشخص کے باعث دنیا کو پاکستان کے حلا ل فوڈ پر اعتماد ہے لیکن بدقسمتی سے ایک مضبوط مسلم ملک ہونے کے باوجود حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کا حصہ بہت کم ہے ۔ جسے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل کے زیر اہتمام حلال ایکریڈیشن آگاہی سیمینار سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کے حلال فوڈ پر اعتماد ہے لیکن بدقسمتی سے اس وقت انٹرنیشنل مارکیٹ پر حلال فوڈ میں برازیل چکن سپلائی، ، ملائیشیا انڈیا اور نیوز ی لینڈ کا گوشت سپلائی پر قبضہ ہے۔انہوں نے کہا آج دنیا میں حلال فوڈ کی ایکسپورٹ تین ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، پاکستان کی بزنس کمیونٹی حلال فوڈ کے ایس او پیز اور بین القوامی سٹینڈرڈکو فالو کرکے حلال فوڈ کے مارکیٹ میں اچھا حصہ لے سکتا ہے جس سے ملک کے برآمد کندگان کو نئی منڈی جبکہ نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا۔ انہوں نے کہا حلال فوڈ اور اس کی برآمد بڑھانا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے بزنس کمیونٹی کی مدد کرکے انٹرنیشنل سٹینڈرڈکو فالو کرکے اس مارکیٹ میں انٹر ہوا جاسکتا ہے ، 22کروڑ آبادی والے ملک کی ایکسپورٹ 22ارب ڈالر ہے اور اگر پاکستان بزنس کمیونٹی محنت اور حلال فوڈ مارکیٹ کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کرے تو ہماری ایکسپورٹ ڈبل ہوسکتی ہے ۔ڈی جی حلال اتھارٹی پاکستان اختر اے بوگیو نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلال فوڈ صرف گوشت اور چکن کا نام نہیں بلکہ ہمیں قوم کو بتانا ہوگا کہ بحثیت مسلمان فوڈ سمیت کاسمیٹک اور دیگر سپلائی ہونے والے اشیامیں کون سی چیزیں حلال ہیں ۔ انہوں نے کہا آج کافی چیزوں میں حرام شامل ہے ،بحثیت مسلمان ہماری اپنے ملک اور دنیا میں ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کے حوالہ سے آگاہی پیدا کریں۔ڈی جی عصمت گل خٹک نے کہا کہ اس وقت دنیا میں حرام چیزیں کھانے سے بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں ، پاکستان کی حلا ل پروڈکٹس کو دنیا کا اعتماد حا صل ہے، ہماری پروڈکٹس صحت مند ہیں،ہم پورے ملک میں آگاہی پروگرام کر رہے ہیں، ہم نے پبلک نوٹس جاری کیا ہے کہ حلال سرٹیفیکیشن باڈیز رجسٹرڈ ہوں گی، جب سرٹیفیکیشن ،ایکریڈیٹیشن کو استعمال نہیں کریں گے تو ملک میں کوالٹی اور اسٹینڈرڈز بہتر نہیں ہوں گے، ایکریڈیٹڈ لیبارٹریز منتخب کریں ، پروڈکٹ اسٹینڈرڈ کے مطابق ہے تو خریدیں۔ پراجیکٹ ڈایریکٹر حلال ایکریڈیشن انجینئر عمر قریشی نے حلال پراڈکٹ کی ایکریڈیشن اور افادیت بتائے کہاکہ پاکستان کو حلال مارکیٹ میں لیڈرشپ کی طرف جاناہے کسی بھی ملک کی برآمدات بڑھانے کے لئے اس کی اجناس کا مستند ہونا ضروری ہے۔حلال ایکریڈیشن سے حلال ٹریڈ پروموٹ ہورہی ہے، پاکستان حلال مارکیٹ میں لیڈرشپ کے طور پر ابھررہاہے جس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہوگا۔ڈبٹی ڈائریکٹر ز عبدالسمیع فاروق اعظم اور رضوان جنجوعہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حلال ایکریڈیشن سے ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری آسکتی ہے، ہمارا مذہب ہمیں حلال کا حکم دیتاہے لیکن آج ہمیں ملاوٹ شدہ اشیادستیاب ہیں ، خاص طور پر بچوں کی خوراک میں مضر صحت چیزیں ہیں جو ہماری بنیاد کمزور کررہی ہے۔سیمینار میں حلال ایکریڈیشن کی اہمیت، ضرورت اور افادیت کے حوالے سے میڈیا کے نمایندوں کو تفصیلی بریفنگ دی گئی اور ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی اور تجارت کے فروغ میں پی این اے سی کے کردار سے بھی شرکاکو آگاہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت کے تحت قائم ادارہ پی این اے سی نے سرکاری اور نجی سطح پر ایسی صنعتوں کے فروغ کے لئے وفاقی حکومت کی پالیسی اور مستقبل کی منصوبہ بندی پیش کی۔