امریکی سپریم کورٹ نے تین مسلمانوں کو ایف بی آئی ایجنٹوں پر مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی

واشنگٹن :امریکہ کی سپریم کورٹ نے 3 مسلمان مردوں کے حق میں اپنے متفقہ فیصلے میں کہا کہ وہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف بی آئی)کے ایجنٹوں کے خلاف زر تلافی کا مقدمہ دائر کر سکتے ہیں، کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر ایف بی آئی کا مخبر بننے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے امریکی حکومت نے ان پر ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔
مذہبی آزادی کے حامی قدامت پسند جج کلیرنس تھامس نے اکثریتی رائے کا فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد مذہبی آزادی سے متعلق 1993 کے قانون کے تحت اپنی نجی حیثیت میں ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔جسٹس تھامس نے 11 صفحات پر مبنی فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادیوں کا قانون فریقِ مقدمہ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ نجی حیثیت میں وفاقی اہلکاروں کے خلاف زر تلافی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔شہری حقوق کے لیے وکالت کرنے والے مسلمان امریکیوں نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔کونسل آف امیریکن اسلامک ریلیشنز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ آج امریکی مسلمانوں اور تمام عقائد پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یوم فتح ہے۔