
اسلام آباد:کامسیٹس کے مرکز برائے آب وہوا اور استحکام(سی سی سی ایس)کے زیر اہتمام ایک عالمی ویبینار میں شامل ماہرین نے متنبہ کیاہے کہ ترقی پذیر ممالک میں فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانے کے لیے اِن ممالک میں نئی معلومات اور آگاہی سے متعلق موثر طریقہ کار اور جامع حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔ اس ویب نار کا موضوع جنوبی خطہ کے ترقی پذیرممالک سائنس،ٹیکنالوجی اور گورننس کے تناظر میں ہوا کے میعار میں بہتری کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں تھا۔ جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے ماحولیات کے ماہرین نے حصہ لیا۔ گذشتہ روز منعقد ہونیوالے اس ویب نارکیلیے اسلامک ورلڈایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈکلچرل آرگنائزیشن (آئی سی ای ایس سی او) نے تعاون فراہم کیا تھا۔ویبینارکے انعقاد کا مقصد صاف ستھری ہوا کے معیار سے متعلق آگاہی کو بڑھانے،خطے کے ممالک میں اس ضمن میں فروغ پانے والے رابطوں کی تازہ صورت حال ، ترقی پذیر ممالک میں فضائی آلودگی سے متعلق مسائل کے حل کو عملی جامہ پہنانے اور اس حوالے سیرواں دہائی میں ہونے والی نئی کوششوں کی وضاحت کا جائزہ لینا تھا۔شرکا نے گلوبل ساوتھ میں شراکت دار ممالک کی تازہ ترین صورت حال پر روشنی ڈالی ۔یہ ویبینار، سی سی سی ایس ویب نار سیریز کی نویں تقریب تھی ۔کامسیٹس کے مرکز برائے آب وہوا اور استحکام کے سربراہ شاہد کمال نے اپنے ابتدائیہ کلمات میں حکومتوں کی سطح پرپالیسی سازی کے لیے ایئر کوالٹی ریسرچ کی اہمیت کے بارے میں بات کی۔ اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن(آئی سی ای ایس سی او)میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے سربراہ،ڈاکٹر راحیل قمرکاپیغام پیش کیا گیا۔ ویبینارکے منتظم اورکامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے سینئرریسرچ آفیسرحسن سپرا نے ویب نار کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی۔ اس ویب نار میں دنیا بھر سے جن ماہرین نے خطاب کیا ان میں جمیکا کے ایٹمی کوالٹی پروگرام کے سربراہ اور نیوکلیئر تجزیاتی لیب کے پروجیکٹ لیڈر ڈاکٹر جوہن انٹون، جاپان کے سینئرپالیسی محقق اور حیاما میں انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ماحولیاتی مطالعات(آئی جی ای ایس)کیڈاکٹر ایرک یوزس مین، مملکت سعودی عرب کے رائل کمیشن جوبیل اور یانبو میں ہوا سے متعلق شعبہ ماحولیاتی تحفظ و کنٹرول محکمہ (ای پی سی ڈی) کے سربراہ ڈاکٹر حسان کیچیچ،لبنان کے پانی وماحولیات لیب کے ڈائریکٹر اورمحکمہ صحت وماحولیات کے پروفیسر جلال حلوانی ، اسلامی دنیا کی تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم(آئی سی ای ایس سی او) موروکو کے ڈائریکٹوریٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر فوڈ ایل عینی ، نائیجیریا کے اوبافی اوولوو یونیورسٹی میںکیمیکل انجینئرنگ کے پروفیسرڈاکٹر جیکب سونیبیر ، امریکا کی ہیلتھ انڈیانا یونیورسٹی کے سنٹر فار اربن کے ڈائریکٹر،پروفیسر آف ارتھ سائنسز اورپرڈیو یونیورسٹی انڈیاناپولس کے پروفیسر گیبریل فلپیلی اور پاکستان کے بانی ایئر کوالٹی انیشی ایٹو عابد عمر شامل تھے۔اِن ماہرین نے دنیا کے مختلف خطوں سمیت خاص طور خطہ جنوبی ممالک میں ہوا کے ناقص معیار اور صحت کے امور اور اس سے پیدا ہونے والے بحرانوں کو موضوع بحث بنایا۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے خراب معاملات میں فضائی آلودگی کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ اس لیے خطہ جنوب میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے صاف ہوا کی کوالٹی کے لیے تین ،اچھی صحت کے لیے سات ،کلین انرجی کے شعبہ میں گیارہ، شہروں کے استحکام اورآب وہوا کے لیے تیرہ درجے کی(ہواکی کوالٹی) ایس ڈی جی بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔


