کریمہ بلوچ کی کنیڈا میں پراسرار موت

ٹورنٹو : پاکستان سے تعلق رکھنے والی کریمہ بلوچ بلوچ سیاسی کارکن کریما بلوچ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں مردہ پائی گئیں اور حکام نے تصدیق کر دی ہے۔ گزشتہ 5 برسوں سے جلاوطنی میں رہنے والی کریما بلوچ اتوار سے لاپتہ تھیں۔
ٹورنٹو پولیس کا کہنا تھا کہ کریما بلوچ کو آخری مرتبہ بے اسٹریٹ اور کوئنز کوائے ویسٹ کے علاقے میں دیکھا گیا تھا، کوئنز بے ٹورنٹو کے قریب ہاربر فرنٹ کی مشہور سڑک ہے۔پولیس نے کئی گھنٹوں بعد رپورٹ کیا تھا کہ کریما بلوچ کو ‘ڈھونڈ’ لیا گیا ہے۔
غیر مصدقہ رپورٹس، بھارتی میڈیا میں اکثر نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیا گیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ کریما بلوچ کو قتل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ٹورنٹوپولیس کے مطابق ان کی موت کو ‘نان کریمنل’ کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔
ٹورنٹو پولیس کے میڈیا ریلیشنز افسر کیرولین ڈی کلوئیٹ نے ای میل کے ذریعے جواب میں کہا کہ ‘پیر 21 دسمبر 2020 کو 37 سالہ خاتون مردہ حالت میں مل گئیں، اس کی بھی ایک نان کریمنل موت کے طور پر تفتیش کی جارہی ہے اور کسی قسم کے مشکوک حالات کا شائبہ نہیں مانا جا رہا ہے’۔
کریما بلوچ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کی ناقد تھیں اور 2016 سے کینیڈا میں مقیم تھیں جہاں انہیں سیاسی پناہ مل گئی تھی، ان کے ایک قریبی دوست نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں کینیڈا میں دھمکیاں مل رہی تھیں۔
کریما بلوچ کی ٹوئٹر پروفائل کے مطابق وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن-آزاداور بلوچ نیشنل فرنٹ (بی این ایف) کی سابق چیئر پرسن تھیں۔
وہ بلوچ حقوق اور لاپتہ افراد کے لیے فعال مہم جو تھیں۔
یاد رہے کہ کریما بلوچ کو مہم جو کے طور پر کام کرنے پر 2016 میں بی بی سی کی سالانہ 100 متاثر کن اور بااثر خواتین کی فہرست میں نامزد کردیا گیا تھا۔