تاریخ میں پہلی بار گاڑیوں کی آمدورفت، ٹریک، پراپرٹی اور کمرشل سمیت تمام معاملات خواتین افسران ڈیل کریں گی

لاہور:ریلوے کو خسارے سے نکالنے کے لئے خواتین کے سگھڑ پن سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لئے لاہور ڈویژن کی ساتوں آپریشنل سیٹوں پر تاریخ میں پہلی بار خواتین افسران کو تعینات کیا گیا ہے ، ریل گاڑیوں کی آمدورفت، ٹریک، پراپرٹی اور کمرشل سمیت تمام معاملات خواتین افسروں کے سپرد ہیں۔ یوں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کو کام کرنے کے مواقع فراہم کرنے میں ریلوے نے سب محکموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ملک کے دوسرے بڑے ادارے ریلوے کی لاہور ڈویژن میں تمام آپریشنل نشستوں پر تعینات خواتین افسران باہمت اور پرعزم ہیں۔ ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آپریشنز لاہور کے عہدے پر فاطمہ بلال ذمہ داری نبھار ہی ہیں۔ شیریں حنا اصغر، ڈویژنل کمرشل آفیسر اور بشری رحمن ڈویژنل ٹرانسپورٹیشن آفیسر کی ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ کی سیٹ پر نیلم توصیف اور ڈویژنل پرسانل آفیسر سروش اعجاز ہیں۔ اسسٹنٹ آپریٹنگ آفیسر زینب منور اور سینئر میڈیکل آفیسر کا عہدہ بھی ڈاکٹر سمیرا کے سپرد ہے۔ لاہور ڈویژن میں ریل گاڑیوں کی آمدورفت، ٹریک کی دیکھ بھال، پراپرٹی اور کمرشل سمیت دیگر معاملات اب خواتین افسران ہی دیکھیں گی۔ ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ آپریشنز لاہور فاطمہ بلال نے کہا ہے دھند کے دوران ٹرین آپریشن جاری رکھنے میں خواتین افسران نے بہت محنت کی۔ سینئر ز اور فیملی کی سپورٹ سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ ڈویژنل کمرشل آفیسر لاہور شیریں حنا اصغر نے کہا ریلوے کے آپریشنل معاملات مشکل ضرور ہیں مگر ہم اپنی ذمہ داری بہترین طریقے سے نبھارہے ہیں۔ریلوے کی خواتین افسران ثابت کررہی ہیں کہ وہ کسی بھی طرح مرد افسران سے کم نہیں ہیں۔



