‘اپنے بالوں کا خیال آپ اپنے لیے رکھتے ہیں، نہ کہ دنیا کو دکھانے اور ان کی تائید حاصل کرنے کے لیے۔امینہ خان

لندن:برطانیہ میں ایک بیوٹی بلاگر نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا ہے کہ انھوں نے شیمپو کی ایک کایا پلٹ اشتہاری مہم میں سکارف پہن کر شرکت کی ہے۔امینہ خان پہلی خاتون ہیں جنھوں نے بالوں کی دیکھ بھال کے لیے چلنے والی ایک عام اشتہاری مہم میں سکارف پہن رکھا ہے۔ان کے بقول ‘یہ مختلف خیالات کے اظہار کا پلیٹ فارم ہے اور ان خواتین کے لیے ہے جو حسن کے محدود سانچے میں نہیں ڈھل سکتیں۔’ان کے خیال میں لااوریل کی اس مہم سے نوجوان خواتین میں بااختیار ہونے کا احساس بڑھے گا۔
انسٹاگرام پر امینہ کے پانچ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ اس مہم میں وہ ماڈلنگ کی دنیا کی دیگر نامور خواتین کے ہمراہ سامنے آئی ہیں۔
امینہ خان کا کہناتھا کہ میرے بال نظر نہ آنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان کا خیال نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بالوں کو چھپانے سے ایک مثبت پیغام ملے گا۔
ان کا کہنا تھا: ‘اپنے بالوں کا خیال آپ اپنے لیے رکھتی ہیں، نہ کہ دنیا کو دکھانے اور ان کی تائید حاصل کرنے کے لیے۔’امینہ کہتی ہیں کہ اس اشتہاری مہم سے ان خواتین کو قبولیت اور اپنائیت کا احساس ہوگا جو سکارف پہنتی ہیں۔
امینہ کا خیال ہے کہ لااوریل کی اشتہاری مہم مثبت سمت میں ایک اور قدم ہے۔
یاد رہے کہ لااوریل اشتہارات میں تنوع پیدا کرنے والی پہلی بڑی کمپنی نہیں ہے۔پیپسی کے بعد دوسرے بڑے برانڈز، مثلا میکڈونلڈ، نے بھی اس سوچ کو اپنایاہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف پریکٹِشنرز اِن ایڈورٹائزنگ کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی اشتہاری مہم کے لیے مختلف رنگ، عقائد اور جنسی میلان کے لوگوں کی شرکت کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ہے۔
1940 میں پیپسی نے افریقی امریکیوں کو راغب کرنے کے لیے یہ طریق کار اپنایا تھا۔
تاہم امریکہ میں 1970 کی شہری حقوق کی تحریک سے پہلے دیگر بڑی کمپنیوں نے اس جانب زیادہ توجہ نہیں دی تھی۔


